کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے

Toggle stanza 1
کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے
1

کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے

کچھ کرتے ہیں ایسا بخدا کچھ نہیں کرتے

2

اپنے مرض غم کا حکیم اور کوئی ہے

ہم اور طبیبوں کی دوا کچھ نہیں کرتے

3

معلوم نہیں ہم سے حجاب ان کو ہے کیسا

اوروں سے تو وہ شرم و حیا کچھ نہیں کرتے

4

گو کرتے ہیں ظاہر کو صفا اہل کدورت

پر دل کو نہیں کرتے صفا کچھ نہیں کرتے

5

وہ دلبری اب تک مری کچھ کرتے ہیں لیکن

تاثیر ترے نالے دلا کچھ نہیں کرتے

6

دل ہم نے دیا تھا تجھے امید وفا پر

تم ہم سے نہیں کرتے وفا کچھ نہیں کرتے

7

کرتے ہیں وہ اس طرح ظفرؔ دل پہ جفائیں

ظاہر میں یہ جانو کہ جفا کچھ نہیں کرتے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…