کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا

Toggle stanza 1
کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا
1

کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا

یہ بھلا چنگا گرفتار بلا کیونکر ہوا

2

جن کو محراب عبادت ہو خم ابروئے یار

ان کا کعبے میں کہو سجدہ ادا کیونکر ہوا

3

دیدۂ حیراں ہمارا تھا تمہارے زیر پا

ہم کو حیرت ہے کہ پیدا نقش پا کیونکر ہوا

4

نامہ بر خط دے کے اس نو خط کو تو نے کیا کہا

کیا خطا تجھ سے ہوئی اور وہ خفا کیونکر ہوا

5

خاکساری کیا عجب کھووے اگر دل کا غبار

خاک سے دیکھو کہ آئینہ صفا کیونکر ہوا

6

جن کو یکتائی کا دعویٰ تھا وہ مثل آئینہ

ان کو حیرت ہے کہ پیدا دوسرا کیونکر ہوا

7

تیرے دانتوں کے تصور سے نہ تھا گر آبدار

جو بہا آنسو وہ در بے بہا کیونکر ہوا

8

جو نہ ہونا تھا ہوا ہم پر تمہارے عشق میں

تم نے اتنا بھی نہ پوچھا کیا ہوا کیونکر ہوا

9

وہ تو ہے نا آشنا مشہور عالم میں ظفرؔ

پر خدا جانے وہ تجھ سے آشنا کیونکر ہوا

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…