کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے

Toggle stanza 1
کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے
1

کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے

جو ہوگی عمر بھر کی راہ تو دم بھر میں آویں گے

2

اگر ہاتھوں سے اس شیریں ادا کے ذبح ہوں گے ہم

تو شربت کے سے گھونٹ آب دم خنجر میں آویں گے

3

یہی گر جوش گریہ ہے تو بہہ کر ساتھ اشکوں کے

ہزاروں پارۂ دل میرے چشم تر میں آویں گے

4

گر اس قید بلا سے اب کی چھوٹیں گے تو پھر ہرگز

نہ ہم دام فریب شوخ غارت گر میں آویں گے

5

نہ جاتے گرچہ مر جاتے جو ہم معلوم کر جاتے

کہ اتنا تنگ جا کر کوچہ دلبر میں آویں گے

6

گریباں چاک لاکھوں ہاتھ سے اس مہر طلعت کے

برنگ صبح محشر عرصۂ محشر میں آویں گے

7

جو سرگردانی اپنی تیرے دیوانے دکھائیں گے

تو پھر کیا کیا بگولے دشت کے چکر میں آویں گے

8

ظفرؔ اپنا کرشمہ گر دکھایا چشم ساقی نے

تماشے جام جم کے سب نظر ساغر میں آویں گے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…