Rubaʿiyat
اب ضعف کے پنجہ سے نکلنا معلوم
اے عشق کیا تو نے گھرانوں کو تباہ
اے وقت بگاڑ کا ہے سب کے چارہ
بس بس کے ہزاروں گھر اجڑ جاتے ہیں
پوچھا جو کل انجام ترقیٔ بشر
حالیؔ رہ راست جو کہ چلتے ہیں سدا
حق بول کے اہل شر سے اڑنا نہ کہیں
دھونے کی ہے اے رفارمر جا باقی
فتنہ کو جہاں تلک ہو دیجے تسکیں
Poetic form
Metre