عشرتیؔ گھر کی محبت کا مزا بھول گئے

Toggle stanza 1
عشرتیؔ گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
1

عشرتیؔ گھر کی محبت کا مزا بھول گئے

کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے

2

پہنچے ہوٹل میں تو پھر عید کی پروا نہ رہی

کیک کو چکھ کے سوئیوں کا مزا بھول گئے

3

بھولے ماں باپ کو اغیار کے چرنوں میں وہاں

سایۂ کفر پڑا نور خدا بھول گئے

4

موم کی پتلیوں پر ایسی طبیعت پگھلی

چمن ہند کی پریوں کی ادا بھول گئے

5

کیسے کیسے دل نازک کو دکھایا تم نے

خبر فیصلۂ روز جزا بھول گئے

6

بخل ہے اہل وطن سے جو وفا میں تم کو

کیا بزرگوں کی وہ سب جود و عطا بھول گئے

7

نقل مغرب کی ترنگ آئی تمہارے دل میں

اور یہ نکتہ کہ مری اصل ہے کیا بھول گئے

8

کیا تعجب ہے جو لڑکوں نے بھلایا گھر کو

جب کہ بوڑھے روش دین خدا بھول گئے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…