چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

Toggle stanza 1
چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
1

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

آرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں

2

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں

فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

3

چاہتا تھا بہت سی باتوں کو

مگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں

4

جرأت عرض حال کیا ہوتی

نظر لطف اس نے کی ہی نہیں

5

اس مصیبت میں دل سے کیا کہتا

کوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں

6

آپ کیا جانیں قدر یا اللہ

جب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں

7

شرک چھوڑا تو سب نے چھوڑ دیا

میری کوئی سوسائٹی ہی نہیں

8

پوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیسا

ہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…