چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
Poet: Akbar Allahabadi
Toggle stanza 1چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
11
چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
آرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں
22
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
33
چاہتا تھا بہت سی باتوں کو
مگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں
44
جرأت عرض حال کیا ہوتی
نظر لطف اس نے کی ہی نہیں
55
اس مصیبت میں دل سے کیا کہتا
کوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں
66
آپ کیا جانیں قدر یا اللہ
جب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں
77
شرک چھوڑا تو سب نے چھوڑ دیا
میری کوئی سوسائٹی ہی نہیں
88
پوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیسا
ہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

