چھڑا ہے راگ بھنورے کا ہوا کی ہے نئی دھن بھی

Toggle stanza 1
چھڑا ہے راگ بھنورے کا ہوا کی ہے نئی دھن بھی
1

چھڑا ہے راگ بھنورے کا ہوا کی ہے نئی دھن بھی

غضب ہے سال کے بارہ مہینوں میں یہ پھاگن بھی

2

یہ رنگ حسن گل یہ نغمۂ مستانۂ بلبل

اشارہ کرتی ہے فطرت ادھر آ دیکھ بھی سن بھی

3

بڑے درشن تمہارے ہو گئے راجہ کی سیوا سے

مگر من کا پنپنا چاہتے ہو تو کرو پن بھی

4

ہوئے روشن یہ معنی چاند کیوں شاعر کو پیارا ہے

کمال اس میں یہ ہے عارض بھی ہے ابرو بھی ناخن بھی

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…