چھڑا ہے راگ بھنورے کا ہوا کی ہے نئی دھن بھی
Poet: Akbar Allahabadi
Toggle stanza 1چھڑا ہے راگ بھنورے کا ہوا کی ہے نئی دھن بھی
11
چھڑا ہے راگ بھنورے کا ہوا کی ہے نئی دھن بھی
غضب ہے سال کے بارہ مہینوں میں یہ پھاگن بھی
22
یہ رنگ حسن گل یہ نغمۂ مستانۂ بلبل
اشارہ کرتی ہے فطرت ادھر آ دیکھ بھی سن بھی
33
بڑے درشن تمہارے ہو گئے راجہ کی سیوا سے
مگر من کا پنپنا چاہتے ہو تو کرو پن بھی
44
ہوئے روشن یہ معنی چاند کیوں شاعر کو پیارا ہے
کمال اس میں یہ ہے عارض بھی ہے ابرو بھی ناخن بھی
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

