اپنی مرضی کے موافق دہر کو کیوں کر کروں

Toggle stanza 1
اپنی مرضی کے موافق دہر کو کیوں کر کروں
1

اپنی مرضی کے موافق دہر کو کیوں کر کروں

بے حد آتا ہے مجھے غصہ مگر کس پر کروں

2

چل بسے چھوٹے بڑے تھا جن سے لطف زندگی

مجھ پے کس کو ناز ہے میں ناز اب کس پر کروں

3

وصل کی شب حسب موسم ہو ہی جائے گی سحر

لطف اٹھاؤں یا درازی کی دعا شب بھر کروں

4

دور بے مہری ہے امید محبت کس سے ہو

اڑ رہی ہے خاک ہر سو کس کے دل میں گھر کروں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…