اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
Toggle stanza 1اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
11
اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
اخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے
22
دیکھو جسے وہ پانیر آفس میں ہے ڈٹا
بہر خدا مجھے بھی کہیں چھاپ دیجئے
33
چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں
اخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے
44
دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کو
طول شب فراق کو تو ناپ دیجئے
55
سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات
انجن کی ان کے کان میں اب بھاپ دیجئے
66
اس بت کے در پہ غیر سے اکبرؔ نے کہہ دیا
زر ہی میں دینے لایا ہوں جان آپ دیجئے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

