اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے

Toggle stanza 1
اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
1

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے

اخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے

2

دیکھو جسے وہ پانیر آفس میں ہے ڈٹا

بہر خدا مجھے بھی کہیں چھاپ دیجئے

3

چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں

اخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے

4

دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کو

طول شب فراق کو تو ناپ دیجئے

5

سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات

انجن کی ان کے کان میں اب بھاپ دیجئے

6

اس بت کے در پہ غیر سے اکبرؔ نے کہہ دیا

زر ہی میں دینے لایا ہوں جان آپ دیجئے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…