یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا

شاعر: ولیؔ دکنی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف)

قافیہ: ار

ردیف: کا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
1

یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا

ہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا

2

آرزوئے چشمۂ کوثر نئیں

تشنہ لب ہوں شربت دیدار کا

3

عاقبت کیا ہووے گا معلوم نئیں

دل ہوا ہے مبتلا دل دار کا

4

کیا کہے تعریف دل ہے بے نظیر

حرف حرف اس مخزن اسرار کا

5

گر ہوا ہے طالب آزادگی

بند مت ہو سبحہ و زنار کا

6

مسند گل منزل شبنم ہوئی

دیکھ رتبہ دیدۂ بیدار کا

7

اے ولیؔ ہونا سریجن پر نثار

مدعا ہے چشم گوہر بار کا

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…