دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
Toggle stanza 1دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
11
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مطلع انوار کا
22
بلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیں
کام ہے تجھ چہرۂ گل نار کا
33
صبح تیرا درس پایا تھا صنم
شوق دل محتاج ہے تکرار کا
44
ماہ کے سینے اپر اے شمع رو
داغ ہے تجھ حسن کی جھلکار کا
55
دل کوں دیتا ہے ہمارے پیچ و تاب
پیچ تیرے طرۂ طرار کا
66
جو سنیا تیرے دہن سوں یک بچن
بھید پایا نسخۂ اسرار کا
77
چاہتا ہے اس جہاں میں گر بہشت
جا تماشا دیکھ اس رخسار کا
88
آرسی کے ہاتھ سوں ڈرتا ہے خط
چور کوں ہے خوف چوکیدار کا
99
سرکشی آتش مزاجی ہے سبب
ناصحوں کو گرمئ بازار کا
1010
اے ولیؔ کیوں سن سکے ناصح کی بات
جو دوانا ہے پری رخسار کا
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

