دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا

شاعر: ولیؔ دکنی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف)

قافیہ: ار

ردیف: کا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
1

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا

ہے مطالعہ مطلع انوار کا

2

بلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیں

کام ہے تجھ چہرۂ گل نار کا

3

صبح تیرا درس پایا تھا صنم

شوق دل محتاج ہے تکرار کا

4

ماہ کے سینے اپر اے شمع رو

داغ ہے تجھ حسن کی جھلکار کا

5

دل کوں دیتا ہے ہمارے پیچ و تاب

پیچ تیرے طرۂ طرار کا

6

جو سنیا تیرے دہن سوں یک بچن

بھید پایا نسخۂ اسرار کا

7

چاہتا ہے اس جہاں میں گر بہشت

جا تماشا دیکھ اس رخسار کا

8

آرسی کے ہاتھ سوں ڈرتا ہے خط

چور کوں ہے خوف چوکیدار کا

9

سرکشی آتش مزاجی ہے سبب

ناصحوں کو گرمئ بازار کا

10

اے ولیؔ کیوں سن سکے ناصح کی بات

جو دوانا ہے پری رخسار کا

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…