کیا تھا نور جب اللہ نے پیدا محمد کا
شاعر: مصطفیٰ خان شیفتہؔ
Toggle stanza 1کیا تھا نور جب اللہ نے پیدا محمد کا
کیا تھا نور جب اللہ نے پیدا محمد کا
اسی دن سے ہوا ہے عاشق شیدا محمد کا
نہ ہو ذکر مبارک آپ کا درد زباں کیونکر
میں ہوں روز اول سے عاشق محمد کا
فرشتے قبر میں پوچھیں گے گر مجھ سے تو کہہ دوں گا
کہ ہوں بندہ خدا کا اور ہوں شیدا محمد کا
خدایا جب مری اس قالب خاکی سے جاں نکلے
زباں پر اس گھڑی جاری رہے کلمہ محمد کا
خیال مہرومہ دل سے تو فورا بھول جائے گا
نظر آجائے گا جس دم تجھے روضہ محمد کا
بشر کی تاب و طاقت کیا جو لکھے نعت احمد کی
خدا ہی جانتا ہے خوب بس رتبہ محمد کا
خدا نے ذات احمد کو وہ اعلی مرتبہ بخشا
کہ دم بھرتے ہیں ہر دم حضرت عیسٰی محمد کا
ملائک نے کیا تھا اس سبب سے سجدہ آدم کو
کہ پیشانی سے ان کی نور تھا پیدا محمد کا
خدا بھی حشر میں پوچھے گا گر عاشق تو کس کا ہے
تو کہہ دوں گا محمد کا محمد کا محمد کا
تمنا ہے کہ فورا جاں بحق تسلیم ہو جاوں
نظر آئے جو مجھ کو شیفتہ محمد کا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

