کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
شاعر: مصطفیٰ خان شیفتہؔ
Toggle stanza 1کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
تلون سے ہے تم کو مدعا کیا
کبھی مجھ پر عتابِ بے سبب کیوں
کبھی بے وجہ غیروں سے وفا کیا
کبھی محفل میں وہ بے باکیاں کیوں
کبھی خلوت میں یہ شرم و حیا کیا
کبھی تمکینِ صولت آفریں کیوں
کبھی الطافِ جرات آزما کیا
کبھی وہ طعنہ ہائے جاں گزا کیوں
کبھی یہ غمزہ ہائے جاں فزا کیا
کبھی شعروں سے میرے نغمہ سازی
کبھی کہنا کہ یہ تم نے کہا کیا
کبھی بے جرم یہ آزردہ ہونا
کہ کیا طاقت جو پوچھوں میں “خطا کیاً
کبھی اس دشمنی پر بہرِ تسکیں
پئے ہم جلوہ ہائے دلربا کیا
یہ سب طول اس نے سن کر بے تکلف
جواب اک مختصر مجھ کو دیا کیا
ابھی اے شیفتہ واقف نہیں تم
کہ باتیں عشق میں ہوتی ہیں کیا کیا
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا
کہا کرتے ہیں افسانوں میں کیا کیا
اسماعیل میرٹھیغزلیاتسنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا
کروں کیا غم کہ دنیا سے ملا کیا
کسی کو کیا ملا دنیا میں تھا کیا
اکبر الہ آبادیغزلیاتکروں کیا غم کہ دنیا سے ملا کیا
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
غالب دهلویغزلیاتہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا
مصطفیٰ خان شیفتہؔغزلیاتجفا و جور کا اس سے گلہ کیا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

