دیکھ لو شوق نا تمام مرا

Toggle stanza 1
دیکھ لو شوق نا تمام مرا
1

دیکھ لو شوق نا تمام مرا

غیر لے جائے ہے پیام مرا

2

بے اثر ہے فغان خون آلود

کیوں نہ ہوئے خراب کام مرا

3

آتشیں خو سے آرزوئے وصال

پک گیا اب خیال خام مرا

4

دیکھنا کثرت بلا نوشی

کاسۂ آسماں ہے جام مرا

5

رتبہ افتادگی کا دیکھو ہے

عرش کے بھی پرے مقام مرا

6

کس صنم کو چھڑا دیا واعظ

لے خدا تجھ سے انتقام مرا

7

ہو کے یوسف جو دل چراتے ہو

کون ہو جائے گا غلام مرا

8

اس لب لعل کی شکایت ہے

کیونکہ رنگیں نہ ہو کلام مرا

9

تو نے رسوا کیا مجھے اب تک

کوئی بھی جانتا تھا نام مرا

10

زانوئے بت پہ جان دی دیکھا

مومنؔ انجام و اختتام مرا

11

بندگی کام آ رہی آخر

میں نہ کہتا تھا کیوں سلام مرا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…