دیکھ لو شوق نا تمام مرا
Poet: Momin Khan Momin
Toggle stanza 1دیکھ لو شوق نا تمام مرا
11
دیکھ لو شوق نا تمام مرا
غیر لے جائے ہے پیام مرا
22
بے اثر ہے فغان خون آلود
کیوں نہ ہوئے خراب کام مرا
33
آتشیں خو سے آرزوئے وصال
پک گیا اب خیال خام مرا
44
دیکھنا کثرت بلا نوشی
کاسۂ آسماں ہے جام مرا
55
رتبہ افتادگی کا دیکھو ہے
عرش کے بھی پرے مقام مرا
66
کس صنم کو چھڑا دیا واعظ
لے خدا تجھ سے انتقام مرا
77
ہو کے یوسف جو دل چراتے ہو
کون ہو جائے گا غلام مرا
88
اس لب لعل کی شکایت ہے
کیونکہ رنگیں نہ ہو کلام مرا
99
تو نے رسوا کیا مجھے اب تک
کوئی بھی جانتا تھا نام مرا
1010
زانوئے بت پہ جان دی دیکھا
مومنؔ انجام و اختتام مرا
1111
بندگی کام آ رہی آخر
میں نہ کہتا تھا کیوں سلام مرا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

