سوداؔ ہوئے جب عاشق کیا پاس آبرو کا

Toggle stanza 1
سوداؔ ہوئے جب عاشق کیا پاس آبرو کا
1

سوداؔ ہوئے جب عاشق کیا پاس آبرو کا

سنتا ہے اے دوانے جب دل دیا تو پھر کیا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…