دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا
Toggle stanza 1دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا
دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا
جوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گا
رخصت ہے باغباں کہ تنک دیکھ لیں چمن
جاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ جائے گا
کعبہ ڈہا تو غم نہ کر اے شیخ بت شکن
دل برہمن کا ہے کہ بنایا نہ جائے گا
آنے سے فوج خط کے نہ ہو دل کو مخلصی
بندھوا ہے زلف کا یہ چھٹایا نہ جائے گا
پہنچیں گے اس چمن میں نہ ہم داد کو کبھو
جوں گل یہ چاک جیب سلایا نہ جائے گا
تیغ جفائے یار سے دل سر نہ پھیریو
پھر منہ وفا کو ہم سے دکھایا نہ جائے گا
آوے گا وہ چمن میں نہ اے ابر جب تلک
پانی گلوں کے منہ میں چوایا نہ جائے گا
عمامے کو اتار کے پڑھیو نماز شیخ
سجدے سے ورنہ سر کو اٹھایا نہ جائے گا
زاہد گلے سے مستوں کے باز آنے کا نہیں
تا مے کدے میں لا کے چھکایا نہ جائے گا
ظالم نہ میں کہا تھا کہ اس خوں سے درگزر
سوداؔ کا قتل ہے یہ چھپایا نہ جائے گا
دامان و داغ تیغ کو دھویا تو کیا ہوا
عالم کے دل سے داغ دھلایا نہ جائے گا
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

