گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

Toggle stanza 1
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
1

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

2

کیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہ

کافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی

3

اے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے

تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لخت جگر بھی

4

اے نالہ صد افسوس جواں مرنے پہ تیرے

پایا نہ تنک دیکھنے تیں روئے اثر بھی

5

کس ہستئ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار

کچھ اپنے شب و روز کی ہے تج کو خبر بھی

6

تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش

رہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی

7

سوداؔ تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات

آئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…