گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
شاعر: مرزا محمد رفیع سوداؔ
Toggle stanza 1گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
11
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی
22
کیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہ
کافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی
33
اے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے
تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لخت جگر بھی
44
اے نالہ صد افسوس جواں مرنے پہ تیرے
پایا نہ تنک دیکھنے تیں روئے اثر بھی
55
کس ہستئ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار
کچھ اپنے شب و روز کی ہے تج کو خبر بھی
66
تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش
رہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی
77
سوداؔ تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات
آئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

