بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی
شاعر: مرزا محمد رفیع سوداؔ
Toggle stanza 1بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی
11
بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی
شاید کہ ہوئی کارگر اب آہ کسو کی
22
اس چشم کا غمزہ جو کرے قتل دو عالم
گوشے کو نگہ کے نہیں پرواہ کسو کی
33
زلفوں کی سیاہی میں کچھ اک دام تھے اپنے
قسمت کہ ہوئی رات وہ تنخواہ کسو کی
44
کیا مصرف بے جا سے فلک کو ہے سروکار
وہ شے کسو کو دے جو ہو دل خواہ کسو کی
55
دنیا سے گزرنا ہی عجب کچھ ہے کہ جس میں
کوئی نہ کبھو روک سکے راہ کسو کی
66
چھینے سے غم عشق شکیبائی و آرام
اے دل یہ پڑی لٹتی ہے بنگاہ کسو کی
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

