تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح
Toggle stanza 1تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح
11
تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح
جوں توں کے دن تو گزرے ہے پر رات بے طرح
22
ہوتی ہے ایک طرح سے ہر کام کی جزا
اعمال عشق کی ہے مکافات بے طرح
33
بلبل کر اس چمن میں سمجھ کر ٹک آشیاں
صیاد لگ رہا ہے تری گھات بے طرح
44
پوچھا پیام بر سے جو میں یار کا جواب
کہنے لگا خموش کہ ہے بات بے طرح
55
ملنے نہ دے گا ہم سے تجھے ایک دم رقیب
پیچھے لگا پھرے ہے وہ بد ذات بے طرح
66
کوئی ہی مور ہے تو رہے اس میں شیخ جی
داڑھی پڑی ہے شانے کے اب ہاتھ بے طرح
77
سوداؔ نہ مل کر اپنی تو اب زندگی پہ رحم
ہے اس جواں کی طرز ملاقات بے طرح
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

