ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو
Toggle stanza 1ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو
11
ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو
دل یار سے پھٹے تو کسی سے رفو نہ ہو
22
اس دل کو دے کے لوں دو جہاں یہ کبھو نہ ہو
سودا تو ہووے تب یہ کہ جب اس میں تو نہ ہو
33
آئینۂ وجود عدم میں اگر ترا
وہ درمیاں نہ ہو تو کہیں ہم کو رو نہ ہو
44
جھگڑا تو حسن و عشق کا چکتا ہے پل کے بیچ
گر محکمے میں قاضی کے تو روبرو نہ ہو
55
قطرہ کی کھل گئی ہے گرہ ورنہ اے نسیم
شور دماغ مرغ چمن گل کی بو نہ ہو
66
گزرے سو گزرے اہل زمیں اوپر اے فلک
آئندہ یاں تلک تو کوئی خوب رو نہ ہو
77
دل لے کے تجھ سے برق کے شعلے کو دیجیے
پر ہے یہ ڈر کہ اس کی بھی ایسی ہی خو نہ ہو
88
گل کی نہ تخم مرغ چمن کر سکے تلاش
ہم خام فطرتوں سے تری جستجو نہ ہو
99
سوداؔ بدل کے قافیہ تو اس غزل کو کہہ
اے بے ادب تو درد سے بس دوبدو نہ ہو
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

