ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو

Toggle stanza 1
ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو
1

ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو

دل یار سے پھٹے تو کسی سے رفو نہ ہو

2

اس دل کو دے کے لوں دو جہاں یہ کبھو نہ ہو

سودا تو ہووے تب یہ کہ جب اس میں تو نہ ہو

3

آئینۂ وجود عدم میں اگر ترا

وہ درمیاں نہ ہو تو کہیں ہم کو رو نہ ہو

4

جھگڑا تو حسن و عشق کا چکتا ہے پل کے بیچ

گر محکمے میں قاضی کے تو روبرو نہ ہو

5

قطرہ کی کھل گئی ہے گرہ ورنہ اے نسیم

شور دماغ مرغ چمن گل کی بو نہ ہو

6

گزرے سو گزرے اہل زمیں اوپر اے فلک

آئندہ یاں تلک تو کوئی خوب رو نہ ہو

7

دل لے کے تجھ سے برق کے شعلے کو دیجیے

پر ہے یہ ڈر کہ اس کی بھی ایسی ہی خو نہ ہو

8

گل کی نہ تخم مرغ چمن کر سکے تلاش

ہم خام فطرتوں سے تری جستجو نہ ہو

9

سوداؔ بدل کے قافیہ تو اس غزل کو کہہ

اے بے ادب تو درد سے بس دوبدو نہ ہو

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…