مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

Toggle stanza 1
مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
1

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا

2

پردے کو تعین کے در دل سے اٹھا دے

کھلتا ہے ابھی پل میں طلسمات جہاں کا

3

ٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخ

جوں شمع حرم رنگ جھلکتا ہے بتاں کا

4

اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن

جب چشم کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا

5

دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کا بازار

لیکن نہیں خواہاں کوئی واں جنس گراں کا

6

ہستی سے عدم تک نفس چند کی ہے راہ

دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا

7

سوداؔ جو کبھو گوش سے ہمت کے سنے تو

مضمون یہی ہے جرس دل کی فغاں کا

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…