مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
شاعر: مرزا محمد رفیع سوداؔ
Toggle stanza 1مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
11
مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا
22
پردے کو تعین کے در دل سے اٹھا دے
کھلتا ہے ابھی پل میں طلسمات جہاں کا
33
ٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخ
جوں شمع حرم رنگ جھلکتا ہے بتاں کا
44
اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن
جب چشم کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا
55
دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کا بازار
لیکن نہیں خواہاں کوئی واں جنس گراں کا
66
ہستی سے عدم تک نفس چند کی ہے راہ
دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا
77
سوداؔ جو کبھو گوش سے ہمت کے سنے تو
مضمون یہی ہے جرس دل کی فغاں کا
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

