تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
شاعر: مرزا محمد رفیع سوداؔ
Toggle stanza 1تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
11
تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
لذت کو اسیری کی کر یاد بہت رویا
22
تصویر مری تجھ بن مانیؔ نے جو کھینچی تھی
انداز سمجھ اس کا بہزادؔ بہت رویا
33
نالے نے ترے بلبل نم چشم نہ کی گل کی
فریاد مری سن کر صیاد بہت رویا
44
جوئیں پڑی بہتی ہیں جا دیکھ گلستاں میں
تجھ قد سے خجل ہو کر شمشاد بہت رویا
55
آئینہ جو پانی میں ہے غرق یہ باعث ہے
تجھ سخت دلی آگے فولاد بہت رویا
66
یاں تک مرے مشہد سے ہے تشنہ لبی پیدا
اس سمت جو ہو گزرا جلاد بہت رویا
77
سوداؔ سے یہ میں پوچھا دل میں بھی کسی کو دوں
وہ کر کے بیاں اپنی روداد بہت رویا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

