آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص
Toggle stanza 1آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص
11
آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص
آسودہ زیر خاک نہیں آشنائے حرص
22
ممکن نہیں ہے یہ کہ بھرے کاسۂ طمع
دن میں کروڑ گھر جو پھرا دے گدائے حرص
33
انساں نہ ہوں ذلیل زمانے کے ہاتھ سے
ذلت کسی کو کوئی نہ دیوے سوائے حرص
44
کر منہ کو ٹک بسوے قناعت یہ حرف مان
رہتی ہے لاکھ طرح کی آفت قفائے حرص
55
ناداں تلاش طرۂ زر سے تو باز آ
جوں شمع یہ نہ ہو کہ ترا سر کٹائے حرص
66
اپنے سوا کسی کو نہ پایا حریف حیف
کی قطع روزگار نے ہم پر قبائے حرص
77
سوداؔ بسر ہو خوبی سے اوقات ہر طرح
پر درمیاں نہ ہووے بشرطیکہ پائے حرص
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

