گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
شاعر: مرزا محمد رفیع سوداؔ
Toggle stanza 1گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
ہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں
نہ دیکھا جو کچھ جام میں جم نے اپنے
سو یک قطرۂ مے میں ہم دیکھتے ہیں
یہ رنجش میں ہم کو ہے بے اختیاری
تجھے تیری کھا کر قسم دیکھتے ہیں
غرض کفر سے کچھ نہ دیں سے ہے مطلب
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
حباب لب جو ہیں اے باغباں ہم
چمن کو ترے کوئی دم دیکھتے ہیں
نوشتے کو میرے مٹاتے ہیں رو رو
ملائک جو لوح و قلم دیکھتے ہیں
مٹا جائے ہے حرف حرف آنسوؤں سے
جو نامہ اسے کر رقم دیکھتے ہیں
اکڑ سے نہیں کام سنبل کی ہم کو
کسی زلف کا پیچ و خم دیکھتے ہیں
خدا دشمنوں کو نہ وہ کچھ دکھائے
جو کچھ دوست سے اپنے ہم دیکھتے ہیں
ستم سے کیا تو نے ہم کو جو خوگر
کرم سے ترے ہم ستم دیکھتے ہیں
مگر تجھ سے رنجیدہ خاطر ہے سوداؔ
اسے تیرے کوچے میں کم دیکھتے ہیں
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
جہاں تیغ ہمت علم دیکھتے ہیں
محالات کا سر قلم دیکھتے ہیں
اسماعیل میرٹھیغزلیاتجہاں تیغ ہمت علم دیکھتے ہیں
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں
غالب دهلویغزلیاتجہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں
نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں
میر تقی میرغزلیاتدیوانِ اولاب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں
نواب مرزا داغ دہلویغزلیاتتماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

