اے سبط مصطفےٰ کے تجھ کو سلام پہنچے
Toggle stanza 1اے سبط مصطفےٰ کے تجھ کو سلام پہنچے
اے سبط مصطفےٰ کے تجھ کو سلام پہنچے
اے جان مرتضےٰ کے تجھ کو سلام پہنچے
اے حکم کش قضا کے تجھ کو سلام پہنچے
اے غمزدہ سدا کے تجھ کو سلام پہنچے
Toggle stanza 2بابا شہ ولایت نانا کی خلق امت
بابا شہ ولایت نانا کی خلق امت
دریا کنارے اترے سارے وہ بے مروت
تو تشنہ کام تنہا یہ رنج یہ مصیبت
اے مبتلا بلا کے تجھ کو سلام پہنچے
Toggle stanza 3بیٹے بھتیجے بھائی یار و رفیق سارے
بیٹے بھتیجے بھائی یار و رفیق سارے
ساقی کوثر آگے کیا تشنہ لب سدھارے
پانی جو تونے مانگا سو تیر تجھ کو مارے
اے خستہ دل جفا کے تجھ کو سلام پہنچے
Toggle stanza 4اللہ ری تیری عزت مرنا جو تونے ٹھانا
اللہ ری تیری عزت مرنا جو تونے ٹھانا
زنہار منھ نہ پھیرا گو پھر گیا زمانہ
آتا ہے کس سے ایسا بیکس ہو مارے جانا
اے دل زدہ رضا کے تجھ کو سلام پہنچے
Toggle stanza 5برسا کی تیغ لیکن تونے سپر نہ رکھی
برسا کی تیغ لیکن تونے سپر نہ رکھی
دریا بہا کیا پر تونے نظر نہ رکھی
کیا کہیے جب توجہ ٹک جان پر نہ رکھی
کشتہ ہیں اس وفا کے تجھ کو سلام پہنچے
Toggle stanza 6تسلیم کا رضا کا دیکھا ترا عجب ڈھب
تسلیم کا رضا کا دیکھا ترا عجب ڈھب
وقت بریدن سر سجدے میں تھا مودب
یہ بندگی الٰہی یہ انکسار یارب
اے شوق کش خدا کے تجھ کو سلام پہنچے
Toggle stanza 7مجلس میں گر پڑا تھا گرم آش کا پیالہ
مجلس میں گر پڑا تھا گرم آش کا پیالہ
چھینٹیں پڑیں جو تجھ پر سہما وہ لانے والا
غصے کو کھا گیا تو منھ سے نہ کچھ نکالا
اے صاحب اس حیا کے تجھ کو سلام پہنچے
Toggle stanza 8تعریف سے ہے باہر سید ترا یہ ساکا
تعریف سے ہے باہر سید ترا یہ ساکا
شائستہ معرکے میں تو ہی تھا اپنی جا کا
اب نقش ہے دلوں پر تیرے ثبات پا کا
اے باب صد ثنا کے تجھ کو سلام پہنچے
Toggle stanza 9درویش بے بضاعت ہے میرؔ دست کوتہ
درویش بے بضاعت ہے میرؔ دست کوتہ
غیر از سلام تحفہ رکھتا نہیں ہے کچھ وہ
ہر لحظہ اور ہر دم ہر گاہ اور بے گہ
اے شاہ دوسرا کے تجھ کو سلام پہنچے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

