میر تقی میرؔ

شاعر

میر تقی میرؔ

1723 — 1810عیسوی

میر تقی میرؔ، جنہیں احتراماً ’’خدائے سخن‘‘ کہا جاتا ہے، اردو شاعری کے بنیادی اور عظیم ترین استادوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آگرہ میں پیدا ہوئے، نوجوانی میں دہلی آئے، اور مغلیہ دارالحکومت کی مسلسل جنگوں اور تباہی کے بعد لکھنؤ منتقل ہو گئے۔ ذاتی زندگی کے صدمات اور دہلی کی بربادی نے ان کے تخیل پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔

میرؔ نے اردو کے چھ دیوان مرتب کیے اور غزل، مثنوی، قصیدہ، رباعی اور دیگر اصناف میں شعر کہے۔ ذکرِ میرؔ اور نکات الشعرا جیسی اہم نثری تصانیف بھی ان کی یادگار ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ غزل ہے، جہاں روزمرہ کی بے ساختگی، لفظ کی صحت، موسیقیت اور جذبات کی گہری بصیرت ذاتی غم کو ایک ہمہ گیر انسانی تجربہ بنا دیتی ہے۔

غالبؔ سمیت بعد کی کئی نسلوں کے شعرا نے میرؔ کی استادی تسلیم کی۔ ان کی زبان بظاہر نہایت سادہ دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے آہنگ، تہہ داری اور کیفیت کی تقلید آسان نہیں۔ میرؔ کا کلام آج بھی اردو زبان کے اظہار کی وسعت اور کلاسیکی غزل کی داخلی قوت کا بنیادی معیار ہے۔

کلام

صنف

اصناف

وزن

اوزان