باب
مناقب
اللہ کیا جگر تھا جفا میں حسین کا
قابل سجدہ ہے علی کا در
قدر کو میری بہت ہے برتری
پارسا ہیں جو جواں پیر ہدیٰ کہتے ہیں
عقل ہے تو مرا کہا کر تو
اے مرتفع نشین علی العرش استوا
اے نائب مصاحب ذی القوۃ المتیں
یاعلی شاہ اولیا ہے تو
ہراس روز محشر کیا محمد مصطفےٰؐ بس ہے
زور و ثبات و تاب و تواں مرتضےٰ علی
ہادی علی رفیق علی رہنما علی
ہے حقیقت سے تو اگر آگہ
جاتی ہے شب تارے گنتے دن کو پھرتا ہوں خراب
چیدہ خواروں میں شہ روم ترے صبح و شام
درویش جو ہیں مقصد دلخواہ کہیں ہیں
السلام اے رازدار داور جاں آفریں
فلک کے جور و جفا نے کیا ہے مجھ کو شکار
غنچے ہو دل پر آتے ہیں اندوہ اب مدام
جب سے خورشید ہوا ہے چمن افروز حمل
اک شب کیا تھا یار تری زلف کا خیال