بات ہماری یاد رہے جی بھولا بھولا جاتا ہے

شاعر: میر تقی میرؔ

قافیہ: ولا

ردیف: جاتا ہے

صنف: غزل

Toggle stanza 1
بات ہماری یاد رہے جی بھولا بھولا جاتا ہے
1

بات ہماری یاد رہے جی بھولا بھولا جاتا ہے

وحشت پر جب آتا ہے تو جیسے بگولا جاتا ہے

2

تھوڑے سے پانی میں میں نے سر کھپی کی ہے جیسے حباب

کہتے ہیں بے تہ مجھ کو کیا اپھرا پھولا جاتا ہے

3

گام کی صورت کیا ہے اس کی راہ چلے ہے میرؔ اگر

دیکھنے والے کہتے ہیں یہ کوئی ہیولا جاتا ہے

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…