بات ہماری یاد رہے جی بھولا بھولا جاتا ہے
شاعر: میر تقی میرؔ
Toggle stanza 1بات ہماری یاد رہے جی بھولا بھولا جاتا ہے
11
بات ہماری یاد رہے جی بھولا بھولا جاتا ہے
وحشت پر جب آتا ہے تو جیسے بگولا جاتا ہے
22
تھوڑے سے پانی میں میں نے سر کھپی کی ہے جیسے حباب
کہتے ہیں بے تہ مجھ کو کیا اپھرا پھولا جاتا ہے
33
گام کی صورت کیا ہے اس کی راہ چلے ہے میرؔ اگر
دیکھنے والے کہتے ہیں یہ کوئی ہیولا جاتا ہے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

