میں آگے نہ تھا دیدۂ پر آب سے واقف

شاعر: میر تقی میرؔ

قافیہ: آب

ردیف: سے واقف

صنف: غزل

Toggle stanza 1
میں آگے نہ تھا دیدۂ پر آب سے واقف
1

میں آگے نہ تھا دیدۂ پر آب سے واقف

پلکیں نہ ہوئی تھیں مری خوناب سے واقف

2

پتھر تو بہت لڑکوں کے کھائے ہیں ولیکن

ہم اب بھی جنوں کے نہیں آداب سے واقف

3

ہم ننگ خلائق یہ عجب ہے کہ نہیں ہیں

اس عالم اسباب میں اسباب سے واقف

4

شب آنکھیں کھلی رہتی ہیں ہم منتظروں کی

جوں دیدۂ انجم نہیں ہیں خواب سے واقف

5

بل کھائے انھیں بالوں کو ہم جانیں ہیں یا میرؔ

ہیں پیچ و غم و رنج و تب و تاب سے واقف

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…