میں آگے نہ تھا دیدۂ پر آب سے واقف
شاعر: میر تقی میرؔ
Toggle stanza 1میں آگے نہ تھا دیدۂ پر آب سے واقف
11
میں آگے نہ تھا دیدۂ پر آب سے واقف
پلکیں نہ ہوئی تھیں مری خوناب سے واقف
22
پتھر تو بہت لڑکوں کے کھائے ہیں ولیکن
ہم اب بھی جنوں کے نہیں آداب سے واقف
33
ہم ننگ خلائق یہ عجب ہے کہ نہیں ہیں
اس عالم اسباب میں اسباب سے واقف
44
شب آنکھیں کھلی رہتی ہیں ہم منتظروں کی
جوں دیدۂ انجم نہیں ہیں خواب سے واقف
55
بل کھائے انھیں بالوں کو ہم جانیں ہیں یا میرؔ
ہیں پیچ و غم و رنج و تب و تاب سے واقف
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

