باب
قصائد
جہاں میں کون ہے جس کو کسی سے الفت ہے
جو پہنچی قیامت تو آہ و فغاں ہے
ہوا کیے ہیں زبس شکوۂ فلک تحریر
رات کو مطلق نہ تھی یاں جی کو تاب