بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب
Toggle stanza 1بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب
11
بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب
ہشیار انیس تو مسافر ہے اب
22
پیدا ہے سپیدی سحر پیری کی
لے خواب سے چونک رات آخر ہے اب
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

