پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو

شاعر: میر ببر علی انیسؔ

وزن: رباعی

قافیہ: ور

ردیف: ہے تو

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو
1

پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو

آنکھیں جسے ڈھونڈھتی ہیں وہ نور ہے تو

2

قربت رگ جاں سے اور پھر اس پر یہ بعد

اللہ اللہ کس قدر دور ہے تو

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…