اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچا

Toggle stanza 1
اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچا
1

اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچا

ہشیار ہو جلد وقت خواب آ پہنچا

2

پیری کی بھی دوپہر ڈھلی آہ انیسؔ

ہنگام غروب آفتاب آ پہنچا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…