چھائے پھولوں سے بھی صیاد تو آباد نہ ہو

Toggle stanza 1
چھائے پھولوں سے بھی صیاد تو آباد نہ ہو
1

چھائے پھولوں سے بھی صیاد تو آباد نہ ہو

وہ قفس کیا جو تہہ دامن صیاد نہ ہو

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…