جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

بند 1
Toggle stanza 1
جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
1

جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

فوجِ خدا پہ سایۂ ابرِ کرم ہوا

2

چرخ زبرجدی پے تسلیم خم ہوا

پنجے پہ سات بار تصدق حشم ہوا

3

دیکھا نہ تھا کبھی جو علم اس نمود کا

دونوں طرف کی فوج میں غل تھا درود کا

بند 2
Toggle stanza 2
وہ شان اس علم کی وہ عباس کا جلال
4

وہ شان اس علم کی وہ عباس کا جلال

نخلِ زمردی کے تلے تھا علی کا لال

5

پرچم پہ جان دیتی تھیں پریوں کا تھا یہ حال

غل تھا کہ دوشِ حور پہ بکھرے ہوئے ہیں بال

6

ہر لہر آبدار تھی کوثر کی موج سے

طوبیٰ بھی دب گیا تھا پھریرے کی اوج سے

بند 3
Toggle stanza 3
تھا پنجتن کا نور جو پنجے میں جلوہ گر
7

تھا پنجتن کا نور جو پنجے میں جلوہ گر

اعمیٰ کی پتلیوں میں بھی تھا روشنی کا گھر

8

ذرے نثار کرتے تھے اٹھ اٹھ کے اپنا زر

تکتے تھے فوق سے تو ملک تخت سے بشر

9

اللہ ری چمک علمِ بوتراب کی

تارِ نظر بنی تھی کرن آفتاب کی

بند 4
Toggle stanza 4
قربان احتشام علمدار نام ور
10

قربان احتشام علمدار نام ور

رخ پر جلالت شہ مرداں تھی سر بسر

11

چہرہ تو آفتاب سا اور شیر کی نظر

قبضے میں تیغ بر میں زرہ دوش پر سپر

12

چھایا تھا رعب لشکرِ ابنِ زیادؔ پر

غل تھا چڑھے ہیں شیر الٰہی جہاد پر

بند 5
Toggle stanza 5
وہ اوج وہ جلال وہ اقبال وہ حشم
13

وہ اوج وہ جلال وہ اقبال وہ حشم

وہ نور وہ شکوہ وہ توقیر وہ کرم

14

پنجے کی وہ چمک وہ سر افرازیِ علم

گرتی تھی برق فوجِ مخالف پہ دم بہ دم

15

کیا رفعتِ نشانِ سعادت نشان تھی

سائے میں جس نشان کے طوبیٰ کی شان تھی

بند 6
Toggle stanza 6
پنجہ اٹھا کے ہاتھ یہ کہتا تھا بار بار
16

پنجہ اٹھا کے ہاتھ یہ کہتا تھا بار بار

عالم میں پنجتن کی بزرگی ہے آشکار

17

یہ شش جہت انہیں کے قدم سے ہے برقرار

کیوں ہفتہ دوست ہوتے ہو اے قوم نابکار

18

آٹھوں بہشت ملتے ہیں مولا کے نام سے

بیعت کرو حسین علیہ السلام سے

بند 7
Toggle stanza 7
غرفوں سے جھانک جھانک کے بولی ہر ایک حور
19

غرفوں سے جھانک جھانک کے بولی ہر ایک حور

صلِ علیٰ علم کی چمک ہے کہ برق طور

20

یارب رہے نگاہ بد اس کی ضیا سے دور

پنجہ ہے یہ کہ ایک جگہ پنجتن کا نور

21

جلوے ہیں سب محمد و حیدر کی شان کے

قربان اس جواں کے نثار اس نشان کے

بند 8
Toggle stanza 8
آگے کبھی نہ دیکھی تھی اس حسن کی سپاہ
22

آگے کبھی نہ دیکھی تھی اس حسن کی سپاہ

دنیا بھی خوبیوں کا مرقع ہے واہ واہ

23

دیکھیں کسے کسے کہ ہے ایک ایک رشکِ ماہ

جاتی ہے جس کے رخ پہ تو پھرتی نہیں نگاہ

24

دیکھو انہیں دموں سے ہے رونق زمین کو

چن کر حسین لائے ہیں کس کس حسین کو

بند 9
Toggle stanza 9
شہرہ بہت تھا حسن میں کنعاں کے ماہ کا
25

شہرہ بہت تھا حسن میں کنعاں کے ماہ کا

قصہ سنا ہوا ہے زلیخا کی چاہ کا

26

یاں آفتاب کو نہیں یارا نگاہ کا

یوسف ہے ایک ایک جواں اس سپاہ کا

27

سنتے تھے ہم کہ عالمِ ایجادِ زشت ہے

ایسے چمن کھلے ہیں کہ دنیا بہشت ہے

بند 10
Toggle stanza 10
ہم شکل مصطفیٰ کا ہے کیا حسن کیا جمال
28

ہم شکل مصطفیٰ کا ہے کیا حسن کیا جمال

صبحِ جبیں بھی اور شبِ گیسو بھی بے مثال

29

یہ لب یہ خط یہ چشم یہ ابرو یہ رخ یہ خال

یاقوت و مشک و نرگس و نجم و مہ و ہلال

30

اک گل پہ یاں ہزار طرح کی بہار ہے

چہرہ نہ کہیے قدرتِ پروردگار ہے

بند 11
Toggle stanza 11
لخت دلِ حسن بھی ہے کس مرتبہ حسیں
31

لخت دلِ حسن بھی ہے کس مرتبہ حسیں

جس کے چراغ حسن سے روشن ہے سب زمیں

32

یہ زلف مشک بیز یہ آئینہ جبیں

سرمایۂ خطا و ختن کائنات چیں

33

رخ کی بلائیں لیتی ہیں پریاں کھڑی ہوئی

سہرے کی ہر لڑی سے ہیں آنکھیں لڑی ہوئی

بند 12
Toggle stanza 12
نامِ خدا میں عون و محمد بھی کیا شکیل
34

نامِ خدا میں عون و محمد بھی کیا شکیل

اک مہر بے نظیر ہے اک بدرِ بے عدیل

35

افروختہ ہیں رخ یہ شجاعت کی ہے دلیل

ہمت بڑی ہے گو کہ ہیں عمریں ابھی قلیل

36

مثلِ علی ہیں جنگ و جدل پر تلے ہوئے

دونوں کے نیمچوں کے ہیں ڈورے کھلے ہوئے

بند 13
Toggle stanza 13
عباس نام ور بھی عجب سج کا ہے جوان
37

عباس نام ور بھی عجب سج کا ہے جوان

نازاں ہے جس کے دوشِ منور پہ خود نشان

38

حمزہ کا رعب صولت جعفرؔ علی کی شان

ہاشم کا دل حسین کا بازو ، حسن کی جان

39

کیوں کر نہ عشق ہو شہ گردوں جناب کو

حاصل ہیں سیکڑوں شرف اس آفتاب کو

بند 14
Toggle stanza 14
اس مہر کو تو دیکھو یہ ذرے ہیں جس کے سب
40

اس مہر کو تو دیکھو یہ ذرے ہیں جس کے سب

سرتاج آسمان و زمیں نورِ عرش رب

41

ابرِ کرم خدیو عجم خسرو عرب

عالی ہمم امامِ امم شاہِ تشنہ لب

42

جنباں زبانِ خشک ہے ذکر الٰہ میں

گویا کھڑے ہیں ختم رسل رزمگاہ میں

بند 15
Toggle stanza 15
کیا فوج تھی حسین کی اس فوج کے نثار
43

کیا فوج تھی حسین کی اس فوج کے نثار

ایک ایک آبروئے عرب فخرِ روزگار

44

جرار و دیں پناہ نمودار نامدار

لڑکوں میں سبزہ رنگ کوئی کوئی گل عذار

45

فوجیں کوئی سماتی تھیں ان کی نگاہ میں

وہ سب پلے تھے بیشہ شیر الہٰ میں

بند 16
Toggle stanza 16
ایک ایک ملک جرأت و ہمت کا بادشاہ
46

ایک ایک ملک جرأت و ہمت کا بادشاہ

کیواں خدم سپہر حشم عرشِ بارگاہ

47

آنکھیں غزالِ رشک مگر شیر کی نگاہ

وہ رعب چتونوں میں کہ اللہ کی پناہ

48

دیکھا تو دل کو توڑ کے برچھی نکل گئی

ابرو ذرا جو ہل گئے تلوار چل گئی

بند 17
Toggle stanza 17
وہ اشتیاقِ جنگ میں لڑکوں کے ولولے
49

وہ اشتیاقِ جنگ میں لڑکوں کے ولولے

بے تاب تھے کہ دیکھیے تلوار کب چلے

50

چہرے وہ آفتاب سے وہ چاند سے گلے

سب فاطمہ کی بیٹیوں کی گود کے پلے

51

اک اک رسولِ حق کی لحد کا چراغ تھا

جس پر علی نے کی تھی ریاضت وہ باغ تھا

بند 18
Toggle stanza 18
اکبر سے عرض کرتے تھے سینہ سپر کیے
52

اکبر سے عرض کرتے تھے سینہ سپر کیے

یہ نیمچے نہ لیویں گے دم بے لہو پییے

53

گر آج مر گئے تو قیامت تلک جیے

صدقے ہوں اس قدم پہ یہ سر ہیں اسی لیے

54

آقا کے آگے لطف ہے تیغ آزمائی کا

آج آپ دیکھیے گا تماشا لڑائی کا

بند 19
Toggle stanza 19
بچپن پہ خادمانِ اولوالعزم کے نہ جائیں
55

بچپن پہ خادمانِ اولوالعزم کے نہ جائیں

جب چاہیں معرکے میں ہمیں آپ آزمائیں

56

تن تن کے روکیں برچھیاں ہنس ہنس کے زخم کھائیں

بجلی گرے تو منہ پہ جھجک کر سپر نہ لائیں

57

جھپکے پلک کسی سے تو آنکھیں نکالیے

بڑھ کر ہٹیں جو پانوں تو سر کاٹ ڈالیے

بند 20
Toggle stanza 20
کہتے تھے مسکرا کے یہ زینب کے دونوں لال
58

کہتے تھے مسکرا کے یہ زینب کے دونوں لال

کھلتے ہیں خود دلیروں کے جوہر دمِ جدال

59

ہر وقت چاہیے مددِ شیر ذو الجلال

نعرے ابھی کریں تو ہلے عرصۂ قتال

60

اتری ہے تیغ جن کے لیے وہ دلیر ہیں

ہم سب کو جانتے ہیں کہ شیروں کے شیر ہیں

بند 21
Toggle stanza 21
یہ چہچہے جو کرتے تھے باہم وہ گلعذار
61

یہ چہچہے جو کرتے تھے باہم وہ گلعذار

شبیر دیکھتے تھے کنکھیوں سے بار بار

62

پاس آ کے عرض کرتے تھے عباسِ نامدار

سنتے ہیں آپ کہتے ہیں جو کچھ یہ جاں نثار

63

جرأت ٹپک رہی ہے ہر اک کے کلام سے

یہ نیمچے رکیں گے بھلا فوجِ شام سے

بند 22
Toggle stanza 22
یہ سن یہ زور شور یہ عمریں یہ آن بان
64

یہ سن یہ زور شور یہ عمریں یہ آن بان

یہ بھولے بھولے منہ پہ جواں مردیاں یہ شان

65

باتیں رجز سے کم نہیں اللہ رے خوش بیان

چلتی ہے ذوالفقار علی کی طرح زبان

66

کس دبدبے سے کاندھوں پہ نیزے سنبھالے ہیں

گویا چلن لڑائی کا سب دیکھے بھالے ہیں

بند 23
Toggle stanza 23
زینب کے لاڈلوں کی طرف دیکھیے حضور
67

زینب کے لاڈلوں کی طرف دیکھیے حضور

مثلِ عرق ٹپکتا ہے پیشانیوں سے نور

68

رخ پر جلال شیر خدا کا ہے سب ظہور

پرتو گلوں کا ہے کہ چمکتی ہے برقِ طور

69

دونوں میں صاف حیدر و جعفر کے طور ہیں

اللہ کی پناہ یہ تیوری ہی اور ہیں

بند 24
Toggle stanza 24
یہ ذکر تھا کہ بجنے لگا طبل اس طرف
70

یہ ذکر تھا کہ بجنے لگا طبل اس طرف

مشکل کشائی کی فوج نے باندھی ادھر بھی صف

71

تیروں نے رخ کیا سوئے ابنِ شہ نجف

سینوں کو غازیوں نے ادھر کر دیا ہدف

72

تھا بسکہ شوقِ جنگ ہر اک رشکِ ماہ کو

جوش آ گیا وغا کا حسینی سپاہ کو

بند 25
Toggle stanza 25
غصے سے آفتاب ہوئے مہ وشوں کے رنگ
73

غصے سے آفتاب ہوئے مہ وشوں کے رنگ

فوجوں پہ جا پڑیں یہ دلوں کی ہوئی امنگ

74

تن تن کے برچھیاں جو سنبھالیں برائے جنگ

بے چین ہو گئے فرسِ ابلق و سرنگ

75

پاسِ ادب سے شاہ کے صف بڑھ کے تھم گئی

پٹری ہر اک سوار کی گھوڑے پہ جم گئی

بند 26
Toggle stanza 26
تنتا ہوا بڑھا کوئی قبضے کو چوم کے
76

تنتا ہوا بڑھا کوئی قبضے کو چوم کے

بھالا کسی نے رکھ لیا کاندھے پہ جھوم کے

77

بولا کوئی یہ غول ہیں کیا شام و روم کے

ٹکڑے اڑائیں گے عمر و شمر شوم کے

78

نامرد ہیں جو آنکھ چراتے ہیں مرد سے

دونوں کو چار کر کے پھریں گے نبرد سے

بند 27
Toggle stanza 27
دو لاکھ سے نظر کسی غازی کی لڑ گئی
79

دو لاکھ سے نظر کسی غازی کی لڑ گئی

بل کھا کے رخ پہ زلف کسی کی اکڑ گئی

80

چتون کسی کی شورِ دہل سے بگڑ گئی

منہ سرخ ہو گیا شکن آبرو پہ پڑ گئی

81

نکلا کوئی سمند کو رانوں میں داب کے

غصے سے رہ گیا کوئی ہونٹوں کو چاب کے

بند 28
Toggle stanza 28
بڑھ کر کسی نے تیر ملایا کمان سے
82

بڑھ کر کسی نے تیر ملایا کمان سے

نیزہ کوئی ہلانے لگا آن بان سے

83

نعرہ کسی کا پار ہوا آسمان سے

تلوار کھینچ لی کسی صفدر نے میان سے

84

ایک شور تھا کہ تلخ کیا ہے حیات کو

لاشوں سے چل کے پاٹ دو نہرِ فرات کو

بند 29
Toggle stanza 29
سنتے ہی یہ کلام جوانان نام ور
85

سنتے ہی یہ کلام جوانان نام ور

لڑکے الگ کھڑے ہوئے غول اپنا باندھ کر

86

کہتے تھے نیمچے لیے وہ غیرتِ قمر

یارب شکست کوفیوں کو دے ہمیں ظفر

87

سرکے نہ پھر وغا میں جو بڑھ کے قدم گڑے

جاکر درِ یزید پہ اپنا علم گڑے

بند 30
Toggle stanza 30
عباس شہ سے کہتے تھے بپھرے ہوئے ہیں شیر
88

عباس شہ سے کہتے تھے بپھرے ہوئے ہیں شیر

تیر اس طرف سے آ چکے اب کس لیے ہے دیر

89

دو دن کی بھوک پیاس میں ہیں زندگی سے سیر

مولا غلام سے کہیں رکنے کے یہ دلیر

90

پاسِ ادب سے غیظ کو ٹالے ہوئے ہیں یہ

شیر خدا کی گود کے پالے ہوئے ہیں یہ

بند 31
Toggle stanza 31
کس کو ہٹائے کس کو سنبھالے یہ جاں نثار
91

کس کو ہٹائے کس کو سنبھالے یہ جاں نثار

مرنے پہ ایک دل ہیں بہتر وفا شعار

92

ہے مصلحت کو دیجیے اب اذن کار زار

ایسا نہ ہو کہ جا پڑیں لشکر پہ ایک بار

93

برہم ہیں سر کشی پہ سوارانِ شام کی

اکبر کی بات مانتے ہیں نہ غلام کی

بند 32
Toggle stanza 32
جب روکتا ہوں میں انہیں اے آسماں سریر
94

جب روکتا ہوں میں انہیں اے آسماں سریر

کہتے ہیں کیوں امام کی جانب لگائے تیر

95

باندھے ہے سر کشی پہ کمر لشکرِ شریر

ہنگام جنگ شیر کے بچے ہوں گوشہ گیر

96

کس قہر کی نظر سے لعینوں کو تکتے ہیں

بچوں کو ہے یہ غیظ کہ آنسو ٹپکتے ہیں

بند 33
Toggle stanza 33
اک اک جری کو تشنہ جرأت کا جوش ہے
97

اک اک جری کو تشنہ جرأت کا جوش ہے

عالم ہے بے خودی کا پہ مرنے کا ہوش ہے

98

ہر صف میں یا علی ولی کا خروش ہے

کہتے ہیں بار بار کہ سر بارِ دوش ہے

99

مشتاق ہیں وہ پیاس میں تیغوں کے گھاٹ کے

ڈر ہے کہ مر نہ جائیں گلے کاٹ کاٹ کے

بند 34
Toggle stanza 34
حسرت سے کی سوئے رفقا شاہ نے نظر
100

حسرت سے کی سوئے رفقا شاہ نے نظر

بولے حبیب نذر کو حاضر ہیں سب کے سر

101

فرمایا شہ نے ہم بھی ہیں آمادۂ سفر

اچھا بڑھے جہاد کو ایک ایک نام ور

102

یہ راہِ حق ہے جو قدم آگے بڑھائے گا

دربارِ مصطفی میں وہی پہلے جائے گا

بند 35
Toggle stanza 35
مژدہ یہ سن کے شاد ہوئے غازیانِ دیں
103

مژدہ یہ سن کے شاد ہوئے غازیانِ دیں

اک اک دلیر جانے لگا سوئے فوج کیں

104

جب نعرہ زن ہوئے صفتِ شیر خشمگیں

تھرائے آسماں کے طبق ہل گئی زمیں

105

برپا تھا شورِ حشر دلیروں کی حرب سے

فوجیں تو کیا جہاں تہہ و بالا تھا ضرب سے

بند 36
Toggle stanza 36
اللہ رے جہاد حبیب و زہیرقین
106

اللہ رے جہاد حبیب و زہیرقین

گویا بپا تھا معرکۂ خندق و حنین

107

جب مر گئے وہ عاشقِ سلطان مشرقین

مقتل میں پیٹتے ہوئے دوڑے گئے حسین

108

یوں جاکے روئے ان کے تنِ پاش پاش پر

جس طرح بھائی روتا ہے بھائی کی لاش پر

بند 37
Toggle stanza 37
خالی ہوا قدیم رفیقوں کا جب پرا
109

خالی ہوا قدیم رفیقوں کا جب پرا

کانپا سپہر شہ نے دمِ سرد یوں بھرا

110

کٹنے لگا عزیزوں کا بھی جب چمن ہرا

گہ روئے آپ ہاتھ جگر پر کبھی دھرا

111

لڑکے جو یک بہ یک کئی ہاتھوں سے کھو گئے

ٹکڑے حسن کی طرح کلیجے کے ہو گئے

بند 38
Toggle stanza 38
تھی قہر حق عقیل کے پوتوں کی کارزار
112

تھی قہر حق عقیل کے پوتوں کی کارزار

شمشیر حیدری کا نمونہ تھے جن کے وار

113

عزت عرب کی رکھ گئے جعفر کے یادگار

تھے تین چار شیر کہ جھپٹے سوئے شکار

114

فتح و ظفر تھی مثلِ علی اختیار میں

پنجے میں تھا وہی جسے تاکا ہزار میں

بند 39
Toggle stanza 39
نکلے برادران علمدارِ صف شکن
115

نکلے برادران علمدارِ صف شکن

دکھلا دیے علی کی لڑائی کے سب چلن

116

بے سر تھے مورچوں میں جوانانِ پیل تن

لاشوں پہ لاشیں گرتی تھیں پڑتا تھا رن پہ رن

117

آنکھوں میں پھر رہی تھی چمک زوالفقار کی

عباس داد دیتے تھے ایک ایک وار کی

بند 40
Toggle stanza 40
تھا چھوٹے بھائیوں کے لیے مضطرب جو دل
118

تھا چھوٹے بھائیوں کے لیے مضطرب جو دل

گہ شہ کے پاس تھے کبھی لشکر کے متصل

119

نعرہ یہ تھا کہ شیر ہے ماں کا تمہیں بحل

شیرو رکے نہ ہاتھ بدن گو ہے مضمحل

120

یہ وقتِ آبرو ہے بڑی جد و کد کرو

ہاں بھائیو امام کی اپنے مدد کرو

بند 41
Toggle stanza 41
الٹو پروں کو بڑھ کے صفوں کو بچھا کے آؤ
121

الٹو پروں کو بڑھ کے صفوں کو بچھا کے آؤ

ساحل کے پاس خون کا دریا بہا کے آؤ

122

جب باگ اٹھاؤ فوج کے اس پار جا کے آؤ

یا مر کے آؤ یا انہیں رن سے بھگا کے آؤ

123

ہاں صفدر و نشاں نہ رہے فوجِ شام کا

بیٹوں کو پاس چاہیے بابا کے نام کا

بند 42
Toggle stanza 42
رہ کر حسین کہتے تھے بھائی سے دم بہ دم
124

رہ کر حسین کہتے تھے بھائی سے دم بہ دم

دولت پدر کی لٹتی ہے اور دیکھتے ہیں ہم

125

جینے نہ دے گا آہ ہمیں بھایئوں کا غم

عباس عرض کرتے تھے اے قبلۂ امم

126

اب باپ کی جگہ شہ عالی مقام ہیں

صدقے نہ کس طرح ہوں کہ ہم سب غلام ہیں

بند 43
Toggle stanza 43
بے جاں ہوئے جو راہِ خدا میں دو شیرِ نر
127

بے جاں ہوئے جو راہِ خدا میں دو شیرِ نر

حضرت ضعیف ہو گئے خم ہو گئی کمر

128

ماتم میں تھے کہ موت نے لوٹا حسن کا گھر

اک دم میں قتل ہو گئے دونوں جواں پسر

129

سب چل بسے نبی و علی پاس رہ گئے

ستر دو تن میں اکبر و عباس رہ گئے

بند 44
Toggle stanza 44
آیا نظر جو لاشۂ نوشاہِ نیک خو
130

آیا نظر جو لاشۂ نوشاہِ نیک خو

اکبر کی چشمِ تر سے ٹپکنے لگا لہو

131

کی غیظ کی نظر طربِ لشکرِ عدو

پہلے سے آئے روتے ہوئے شہ کے روبرو

132

نکلی یہ بات جوشِ بکا میں زبان سے

قاسم کے ساتھ جائیں گے ہم بھی جہان سے

بند 45
Toggle stanza 45
بچپن سے ہم سے یہ نہ ہوئے تھے کبھی جدا
133

بچپن سے ہم سے یہ نہ ہوئے تھے کبھی جدا

سوئے تو ایک فرش یہ کھیلے تو ایک جا

134

طفلی کا ساتھ چھوٹ گیا وامصیبتا

مرجائے ایسا بھائی تو جینے کا لطف کیا

135

حسرت یہ ہے کہ تیغوں سے تن پاش پاش ہو

پہلو میں ابنِ عم کے ہماری بھی لاش ہو

بند 46
Toggle stanza 46
شہ نے کہا کہ سچ ہے یہ ایسا ہی ہے الم
136

شہ نے کہا کہ سچ ہے یہ ایسا ہی ہے الم

خالق جہاں میں بھائی کا بھائی کو دے نہ غم

137

بازو کا ٹوٹنا اجل آنے سے کیا ہے کم

مر مر کے غم میں بھائی حسن کے جیے ہیں ہم

138

تازہ تھا غم پدر کا خوشی دل سے فوت تھی

عباسِ نامدار نہ ہوتے تو موت تھی

بند 47
Toggle stanza 47
بھائی کے بعد ان سے ملی لذتِ حیات
139

بھائی کے بعد ان سے ملی لذتِ حیات

بے کس کے غم گسار تھے یہ یا خدا کی ذات

140

خالی نہ پائی مہرو مروت سے کوئی بات

سویا جو میں تو ان کو کٹی جاگنے میں رات

141

صدمے بھلائے دل سے حسن کی جدائی کے

رونے نہیں دیا مجھے ماتم میں بھائی کے

بند 48
Toggle stanza 48
ہے ان کے اتحاد کا سب سے جدا مزا
142

ہے ان کے اتحاد کا سب سے جدا مزا

بیٹے کا لطف بھائی کاحظ باپ کا مزا

143

ملتا ہے بات بات میں ہر دم نیا مزا

اوجھل یہ آنکھ سے ہوں تو جینے کا کیا مزا

144

قائم رکھے خدا کہ علی کے نشان ہیں

مالک یہی ہیں گھر کے یہی تن کی جان ہیں

بند 49
Toggle stanza 49
قوت جگر کی تم ہو تو یہ بازوؤں کا زور
145

قوت جگر کی تم ہو تو یہ بازوؤں کا زور

بچھڑا جو دو میں ایک تو پھر میں کنار گور

146

ہوتا ہے زخمِ دل پہ نمک آنسوؤں کا شور

جب پتلیاں جدا ہوں تو چشمِ بشر ہے کور

147

تم پہلوؤں میں تھے جو یہ بے کس سنبھل گیا

پھر خاتمہ ہے جسم سے جب دم نکل گیا

بند 50
Toggle stanza 50
ان سے نشان علی کا ہے تم سے ہمارا نام
148

ان سے نشان علی کا ہے تم سے ہمارا نام

گھر ہٹ گیا نبی کا جو دونوں ہوئے تمام

149

میت کے دفن کا بھی مقدم ہے انتظام

مرنے کے بعد کوئی تو آئے ہمارے کام

150

تربت پہ تم سے گل ہوں تو دل باغ باغ ہو

اندھیر ہے جو قبر پدر بے چراغ ہو

بند 51
Toggle stanza 51
کیجو نہ ذکر ہجر پہ صدمہ ہے دل خراش
151

کیجو نہ ذکر ہجر پہ صدمہ ہے دل خراش

بہرِ پدر کرو کفن و گور کی تلاش

152

ہوگا یہ جسم ظلم کی تیغوں سے پاش پاش

دو شخص چاہیے کہ اٹھائیں ہماری لاش

153

رونے کو کوئی دوست نہ یارو سرہانے ہو

فرزند پائینتی ہو برادر سرہانے ہو

بند 52
Toggle stanza 52
اکبر نے سن کے باپ سے یہ اشکِ خوں بہائے
154

اکبر نے سن کے باپ سے یہ اشکِ خوں بہائے

عباس بول اٹھے نہ خدا وہ گھڑی دکھائے

155

ہے زندگی یہی کہ ہمیں پہلے موت آئے

خاک اس غلام پر کہ جو آقا کی لاش اٹھائے

156

دستِ قوی ہیں نیزہ وصمصام کے لیے

پائیں ہیں کیا یہ ہاتھ اسی کام کے لیے

بند 53
Toggle stanza 53
بس گر پڑا یہ کہہ کے قدم پر وہ باوفا
157

بس گر پڑا یہ کہہ کے قدم پر وہ باوفا

جھک کر کہا حسین نے بھائی یہ کیا کیا

158

قاسم کا ذکر کرتے تھے ہم شکلِ مصطفی

باتیں تو ان سے تھیں تمہیں کیوں غیظ آ گیا

159

ہم تم تو ساتھ گلشنِ ہستی سے جائیں گے

اچھا ہماری لاش کو اکبر اٹھائیں گے

بند 54
Toggle stanza 54
اٹھے قدم سے آپ کی الفت کے میں نثار
160

اٹھے قدم سے آپ کی الفت کے میں نثار

غصے میں بھول جاتے ہو بھیا ہمارا پیار

161

آنکھیں قدم پر مل کے یہ بولا وہ نام دار

بے اذن جنگ سر نہ اٹھائیں گا خاکسار

162

ایسا نہ ہوں خجل ہوں رسالت مآب سے

پہلے مروں گا اکبرِ عالی جناب سے

بند 55
Toggle stanza 55
صدقہ علی کی روح کا اکبر کو روکیے
163

صدقہ علی کی روح کا اکبر کو روکیے

دے کر قسم شبیہ پیمبر کو روکیے

164

نورِ نگاہِ بانوئے بے پر کو روکیے

اے آفتابِ دیں مہِ انور کو روکیے

165

پہلے رضا ملے تو بہت نیک نام ہوں

آقا یہ شاہزادہ ہے اور میں غلام ہوں

بند 56
Toggle stanza 56
شہ نے کہا کہ سر تو قدم سے اٹھائیے
166

شہ نے کہا کہ سر تو قدم سے اٹھائیے

لیجے رضائے جنگ نہ آنسو بہائیے

167

فرقت میں ہم مریں کہ جئیں خیر جائیے

اپنی سکینۂ جان سے جاکر مل آئیے

168

زوجہ کو پیٹتے ہوئے سر دیکھ لیجیے

بچوں کو اور ایک نظر دیکھ لیجیے

بند 57
Toggle stanza 57
عباس شہ کے گرد پھرے آٹھ کے سات بار
169

عباس شہ کے گرد پھرے آٹھ کے سات بار

بھائی کو گھر میں لے کے چلے شاہِ ذی وقار

170

بولا یہ پیک شاطر فوجِ ستم شعار

لو اذن جنگ پا چکے عباس نام دار

171

خود دیکھ کر یہ حال پھرا ہوں میں راہ سے

ملنے گئے ہیں خیمے میں ناموسِ شاہ سے

بند 58
Toggle stanza 58
تھے آگے آگے ہاتھوں سے تھامے کمر امام
172

تھے آگے آگے ہاتھوں سے تھامے کمر امام

نعرہ یہ دم بہ دم تھا کہ اب ہم ہوئے تمام

173

تیغوں سے گھاٹ روک لو آیا وہ نیک نام

اب معرکہ ہے قبر کا اے ساکنانِ شام

174

دیکھو بچے رہو کہ لڑائی ہے شیر سے

چھوٹے گی مشکلوں میں ترائی دلیر سے

بند 59
Toggle stanza 59
دل مل گئے سپاہ کے سنتے ہی یہ خبر
175

دل مل گئے سپاہ کے سنتے ہی یہ خبر

کانپے مثالِ بید جوانان پر جگر

176

ہل چل میں اس طرف کے پرے ہو گئے ادھر

ساحل سے ہٹ کے نہر پکاری کہ الحذر

177

پیچھے ہٹیں صفیں یہ تلاطم عیاں ہوا

دریا جو باڑھ پر تھا وہ الٹا رواں ہوا

بند 60
Toggle stanza 60
ٹوٹے وہ مورچے جو بندھے تھے پۓ جدال
178

ٹوٹے وہ مورچے جو بندھے تھے پۓ جدال

برچھی گری زمیں پہ کسی کی کسی کی ڈھال

179

اللہ ری ہیبتِ خلفِ شیر ذوالجلال

کانپی زمیں کھڑے ہوئے روئیں تنوں کے بال

180

منہ زرد ہو کے رہ گیا ہر نوجوان کا

دشتِ نبرد کھیت بنا زعفران کا

بند 61
Toggle stanza 61
تھا شش جہت میں غل کہ یہ ہے روزِ انقلاب
181

تھا شش جہت میں غل کہ یہ ہے روزِ انقلاب

الٹے گا اس زمیں کا ورق ابنِ بوتراب

182

اس شیر پر نہ ہوگی کوئی فوج فتح یاب

بس اب بنائے عالمِ امکاں ہوئی خراب

183

حملہ غضب ہے بازوئے شاہِ حجاز کا

لنگر نہ ٹوٹ جائے زمیں کے جہاز کا

بند 62
Toggle stanza 62
ڈر ہے ہوا تھی ایک طرف گرد اک طرف
184

ڈر ہے ہوا تھی ایک طرف گرد اک طرف

بھرتے تھے خیبری بھی دمِ سرد اک طرف

185

سمٹے ہوئے تھے کوفے کے نامرد اک طرف

تھے رو سیاہ شام کے سب زرد اکطرف

186

بھاگے تھے نیزہ باز لڑائی کو چھوڑ کے

ضیغم نکل گئے تھے ترائی کو چھوڑ کے

بند 63
Toggle stanza 63
تھی ابتری سپاہِ ضلالت شعار میں
187

تھی ابتری سپاہِ ضلالت شعار میں

اس صف میں تھی وہ صف یہ قطار اس قطار میں

188

سو بار جو لڑے تھے اکیلے ہزار میں

وہ جائے امن ڈھونڈھتے تھے کارزار میں

189

چہرے تھے زرد خوف سے حیدر کے لال کے

نامرد منہ چھپائے تھے گھونگھٹ میں ڈھال کے

بند 64
Toggle stanza 64
سرکردہائے فوجِ مخالف تھے بے حواس
190

سرکردہائے فوجِ مخالف تھے بے حواس

کچھ شمر کے قریب تھے کچھ تھے عمر کے پاس

191

سب کا یہ قول تھا کہ ہوئی زندگی سے یاس

ضرب علی ہے ضربِ علمدارِ حق شناس

192

طاقت سے ہیں بھرے ہوئے بازو دلیر کے

خیبر کشا کا زور ہے پنجے میں شیر کے

بند 65
Toggle stanza 65
اس فوج میں ہے گو یہ تزلزل یہ انتشار
193

اس فوج میں ہے گو یہ تزلزل یہ انتشار

ہتھیار ادھر لگاتے ہیں عباسِ نامدار

194

مضطر ہیں بیبیاں شہِ والا ہیں بے قرار

بھائی کے منہ کو دیکھ کے روتے ہیں زار زار

195

بیٹا کھڑا ہے چاک گریباں کیے ہوئے

روتی ہے سوکھی مشک سکینہ لیے ہوئے

بند 66
Toggle stanza 66
منہ دیکھتی ہے باپ کا جب وہ بہ چشم تر
196

منہ دیکھتی ہے باپ کا جب وہ بہ چشم تر

کہتے ہیں یہ اشارے سے سلطانِ بحر و بر

197

لٹتا ہے باپ تم کو سکینہ نہیں خبر

جانے نہ دو چچا کو ہمیں چاہتی ہو گر

198

آنسو بہا بہا کے نہ پانی کا نام لو

دامن قبا کا ننھے سے ہاتھوں سے تھام لو

بند 67
Toggle stanza 67
بھائی کے اضطراب سے زینب کا ہے یہ حال
199

بھائی کے اضطراب سے زینب کا ہے یہ حال

ڈھلکی ہوئی ہے سر سے ردا اور کھلے ہیں بال

200

عباس سے یہ کہتی ہے رو کر بہ صد ملال

چھوڑو نہ شہ کو اے اسدِ کبریا کے لال

201

کیا کہتے ہو سکینہ سے منہ موڑ موڑ کے

بھیا کدھر چلے مرے بھائی کو چھوڑ کے

بند 68
Toggle stanza 68
دیکھو تو حال سبط رسول فلک اساس
202

دیکھو تو حال سبط رسول فلک اساس

بیٹے کا غم بھتیجے کا ماتم ہجوم یاس

203

ہے کثرتِ سپاہ میں تنہا وہ حق شناس

قربان جاؤں تم تو رہو بے وطن کے پاس

204

عاشق ہو دلبرِ اسد ذوالجلال کے

بازو قوی تمہیں سے ہیں زہرا کے لال کے

بند 69
Toggle stanza 69
عباس کہتے ہیں کہ نہ جاؤں تو کیا کروں
205

عباس کہتے ہیں کہ نہ جاؤں تو کیا کروں

کیوں کر نہ حق امامِ زماں کا ادا کروں

206

الٹوں صفیں ہزاروں سے تنہا وغا کروں

یہ سر ہے الیے کہ قدم پر فدا کروں

207

پہونچا ہے فیض سیدِ خوشخو کے ہاتھ سے

دنیا میں کچھ تو کام ہو بازو کے ہاتھ سے

بند 70
Toggle stanza 70
رخصت طلب ہے شاہ سے اکبر سا لالہ فام
208

رخصت طلب ہے شاہ سے اکبر سا لالہ فام

شہزادہ مرے جائے سلامت رہے غلام

209

للہ روکیے نہ اب اے خواہر امام

وہ امر کیجیے کہ بڑھے جس سے میرا نام

210

بیکس ہوں ساتھ ماں نہیں سر پر پدر نہیں

میں آپ کا غلام تو ہوں گو پسر نہیں

بند 71
Toggle stanza 71
باتیں یہ سن کے روتی ہیں زینب جھکا کے سر
211

باتیں یہ سن کے روتی ہیں زینب جھکا کے سر

تھرا رہی ہے زوجہ عباس نام ور

212

چہرہ تو فق ہے گود میں ہے چاند سا پسر

مانع ہے شرم روتی ہے منہ پھیر پھیر کر

213

موقع نہ روکنے کا ہے نے بول سکتی ہے

حضرت کے منہ کو نرگسی آنکھوں سے تکتی ہے

بند 72
Toggle stanza 72
کہتی ہے رو کے بانوئے عالم سے بار بار
214

کہتی ہے رو کے بانوئے عالم سے بار بار

ہم کو تباہ کرتے ہیں عباسِ نام دار

215

ہے لونڈیوں کے باب میں بی بی کو اختیار

کچھ آپ بولتی نہیں اس وقت میں نثار

216

کہیے جو روکنے کی کوئی ان کے راہ ہو

اب عنقریب ہے کہ مرا گھر تباہ ہو

بند 73
Toggle stanza 73
اکبر کا واسطہ کوئی تدبیر کیجیے
217

اکبر کا واسطہ کوئی تدبیر کیجیے

امداد بہرِ حضرتِ شبیر کیجیے

218

کچھ دل کو ہو قرار وہ تقریر کیجیے

پٹکا وہ باندھتے ہیں نہ تاخیر کیجیے

219

اک دل ہے میرا اور کئی غم کے تیر ہیں

بی بی میں کیا کروں مرے بچے صغیر ہیں

بند 74
Toggle stanza 74
عباس دیکھتے ہیں جو زوجہ کا اضطرار
220

عباس دیکھتے ہیں جو زوجہ کا اضطرار

ہوتا ہے تیر غم جگر ناتواں کے پار

221

روتے ہیں خود مگر یہ اشار ہے بار بار

شوہر کے غم میں یوں کوئی ہوتا ہے بیقرار

222

آؤ ادب سے دلبرِ زہرا کے سامنے

روتی ہیں لونڈیاں کہیں آقا کے سامنے

بند 75
Toggle stanza 75
کھولا ہے گوندھے بالوں کو صاحب یہ کیا یہ کیا
223

کھولا ہے گوندھے بالوں کو صاحب یہ کیا یہ کیا

پیٹو نہ سر کو روتا ہے فرزند مہ لقا

224

خیرالنسا کے لال پہ ہوتے ہیں ہم فدا

شادی کا ہے مقام کہ ماتم کی ہے یہ جا

225

ایذا میں صبر صاحب ہمت کا کام ہے

میری بھی آبرو ہے تمہارا بھی نام ہے

بند 76
Toggle stanza 76
لو پونچھ ڈالو آنسوؤں کو بہرِ ذو الجلال
226

لو پونچھ ڈالو آنسوؤں کو بہرِ ذو الجلال

دیکھو زیادہ رونے سے ہوگا ہمیں ملال

227

میری مفارقت کا نہ کیجو کبھی خیال

قائم تمہارے سر پہ رہے فاطمہ کا لال

228

غم چاہیے نہ آہ و بکا چاہیے تمہیں

شہ کی سلامتی کی دعا چاہیے تمہیں

بند 77
Toggle stanza 77
صدقے ہیں ابنِ فاطمہ پر مجھ سے سو غلام
229

صدقے ہیں ابنِ فاطمہ پر مجھ سے سو غلام

دیکھو نہ روتے دیکھ لیں تم کو کہیں امام

230

کیا اشکِ خوں بہا کے بگاڑوگی میرا کام

ہم ہاتھ جوڑتے ہیں یہ ہے صبر کا مقام

231

پوچھیں حضور گر کہ تمہیں کیا قبول ہے

صاحب یہ کہیو تم کہ رنڈاپا قبول ہے

بند 78
Toggle stanza 78
دیکھو کہ گھر میں اور بھی رانڈیں ہیں تین چار
232

دیکھو کہ گھر میں اور بھی رانڈیں ہیں تین چار

آدابِ شہ سے چپ ہیں نہیں کوئی بیقرار

233

رہ جائے بات کرتے ہیں وہ امرا ہوشیار

دنیا ہے بے ثبات زمانہ ہے بے مدار

234

کیا کیا نہ تفرقے ہوئے ایک ایک آن میں

صاحب سدا کوئی بھی جیا ہے جہان میں

بند 79
Toggle stanza 79
قاسم کو دیکھو جانبِ کبرا کرو نگاہ
235

قاسم کو دیکھو جانبِ کبرا کرو نگاہ

گذری جو شب تو صبح کو گھر ہو گیا تباہ

236

دشمن کو بھی دکھائے نہ اللہ ایسا بیاہ

کیا صابرہ ہے دخترِ شبیر واہ واہ

237

سہتے ہیں یوں جہاں میں جفا رانڈ ہونے کی

آواز بھی بھلا کوئی سنتا ہے رونے کی

بند 80
Toggle stanza 80
آفت میں صبر کرتی ہیں اس طرح بیبیاں
238

آفت میں صبر کرتی ہیں اس طرح بیبیاں

ہوتا ہے صابروں کا مصیبت میں امتحاں

239

جل جائے دل مگر نہ اٹھے آہ کا دھواں

اف کیجیے نہ منہ سے جو پہونچے لبوں پہ جاں

240

چرچا رہے کہ وقت پہ کیا کام کر گئی

چھوٹی بہو علی کا بڑا نام کر گئی

بند 81
Toggle stanza 81
شوہر نے یہ کلام کیے جب بہ چشم تر
241

شوہر نے یہ کلام کیے جب بہ چشم تر

چپ ہو گئی وہ صاحب ہمت جھکا کے سر

242

ہتھیار سج کے حضرتِ عباس نامور

آئے قریب لختِ دل سیدالبشر

243

صدمے سے رنگِ سبطِ نبی زرد ہو گیا

کانپے یہ دست و پاک بدن سرد ہو گیا

بند 82
Toggle stanza 82
جوں جوں قریب آتے تھے عباس نامور
244

جوں جوں قریب آتے تھے عباس نامور

بے تاب تھے حسین سنبھالے ہوئے جگر

245

کہتے تھے اضطراب میں جھک کر ادھر ادھر

جینے نہ دے گا آہ ہمیں صدمۂ کمر

246

ہے زیست تلخ فاطمہ کے نورِعین کو

زینب کہاں ہو؟ آ کے سنبھالو حسین کو

بند 83
Toggle stanza 83
سب گھر کی بیٹیوں سے کہو میرے پاس آئیں
247

سب گھر کی بیٹیوں سے کہو میرے پاس آئیں

بانو کہاں ہیں زوجۂ عباس کو بلائیں

248

گودی میں تشنہ کام سکینہ کو جلد لائیں

کوچ اب جہاں سے ہے ہمیں سب آکے دیکھ جائیں

249

یہ نوجواں سنبھالے گا جس دم مروں گا میں

عباس سے ہر اک کی سفارش کروں گا میں

بند 84
Toggle stanza 84
یہ سن کے ساری بیبیاں آئیں یہ حالِ زار
250

یہ سن کے ساری بیبیاں آئیں یہ حالِ زار

بولے قدم پہ جھک کے یہ عباسِ نامدار

251

اے آفتابِ عالمیاں نورِ کردگار

ہل من مبارز ًکا ادھر غل ہے بار بار

252

ہیں ذرہ پروری کے چلن آفتاب میں

آقا یہ دیر کس لیے خادم کے باب میں

بند 85
Toggle stanza 85
لڑکوں نے معرکہ میں کیے اپنے اپنے نام
253

لڑکوں نے معرکہ میں کیے اپنے اپنے نام

کیا میں غلامِ خاص نہیں یا شہِ انام

254

ایسا دن اور بھی کوئی ہوئے گا یا امام

کس کام کا جو آج نہ کام آئے گا غلام

255

مشکل ہے ایسے وقت میں رکنا دلیر کا

آخر پسر ہوں شیر الٰہی سے شیر کا

بند 86
Toggle stanza 86
ہوتا جو سب سے پہلے فدا خادمِ جناب
256

ہوتا جو سب سے پہلے فدا خادمِ جناب

خوش ہوتی خاکسار سے روحِ ابوتراب

257

اب ہوں ہر اک کے آگے خجالت سے آب آب

زہرا سے بھی حجاب ہے شبر سے بھی حجاب

258

اب بھی نہ تیغ و تیر اگر تن پہ کھاؤں گا

مولا بتائیے کسے پھر منہ دکھاؤں گا

بند 87
Toggle stanza 87
ساتھ آپ کے سہوں گا نہ گر قتل کی جفا
259

ساتھ آپ کے سہوں گا نہ گر قتل کی جفا

مجھ سے رسولِ پاک خوشی ہوں گے یا خفا؟

260

بیزار کیا نہ ہوگا دلِ شاہ لافتا

پھر فاطمہ کہیں گی مجھے صاحبِ وفا؟

261

مرنے کا حظ نہ جینے کا مطلق مزا رہا

انساں کی آبرو نہ رہی جب تو کیا رہا

بند 88
Toggle stanza 88
پالا ہے مجھ کو یا شہ دل گیر آپ نے
262

پالا ہے مجھ کو یا شہ دل گیر آپ نے

کی ہے ہمیشہ پیار سے تقریر آپ نے

263

بندھوائی ہے کمر سے یہ شمشیر آپ نے

بخشی ہے سب میں عزت و توقیر آپ نے

264

وقتِ مدد ہے آج بھی امداد کیجیے

بندہ سمجھ کے اب مجھے آزاد کیجیے

بند 89
Toggle stanza 89
گردن ہلا کے شہ نے کہا آہ کیا کروں؟
265

گردن ہلا کے شہ نے کہا آہ کیا کروں؟

مشکل ہے سخت اے مرے واللہ کیا کروں؟

266

جینے نہ دے گا یہ غمِ جاں کاہ کیا کروں؟

چھٹتا ہے اب برادرِ ذی جاہ کیا کروں؟

267

دم بھر کی زندگی مجھے دشوار ہو گئی

سب تو خفا تھے موت بھی بیزار ہو گئی

بند 90
Toggle stanza 90
غازی نے رکھ دیا قدم شاہِ دیں پہ سر
268

غازی نے رکھ دیا قدم شاہِ دیں پہ سر

بولے گلے لگا کے شہنشاہ بحرو بر

269

اے تن کی جان اے سبب قوتِ جگر

یوں ہے خوشی تو خیر جہاں سے کرو سفر

270

بھائی نہ ہو تو بھائی کی مٹی خراب ہے

اچھا تمہارا کوچ مرا پاتر اب ہے

بند 91
Toggle stanza 91
روتا ہوا جھکا پے تسلیم وہ جری
271

روتا ہوا جھکا پے تسلیم وہ جری

سب روئے مشک دوشِ مبارک پہ جب دھری

272

اک آہِ سرد زوجۂ عباس نے بھری

صدمے سے رنگ زرد تھا اور تن میں تھرتھری

273

سر سے ردا بھی دوش تلک آ کے گر پڑی

بانو کے پاس خاک پہ غش کھا کے گر پڑی

بند 92
Toggle stanza 92
نکلا وہ شیر خیمے سے باہر علم لیے
274

نکلا وہ شیر خیمے سے باہر علم لیے

مجرے کو آئی فتح سپاہ حشم لیے

275

جرأت نے بڑھ کے بوسۂ تیغِ دو دم لیے

نصرت نے چومے ہاتھ ظفر نے قدم لیے

276

خورشید کا جلال نگاہوں سے گر گیا

اقبال سر کے گرد ہما بن کے پھر گیا

بند 93
Toggle stanza 93
آیا سجا ہوا وہ سمند براق سیر
277

آیا سجا ہوا وہ سمند براق سیر

تھا جو فلک پہ اڑنے کو تیار مثلِ طیر

278

ہوتا تھا اس کے ڈر سے غزالوں کا حال غیر

رن میں سپاہِ شر اسے روکے تو یہ بخیر

279

صر صر قدم کی گرد کو پاتی نہیں کبھی

ڈھونڈھے بشر پری نظر آتی نہیں کبھی

بند 94
Toggle stanza 94
وہ زیب و زین زین کی وہ ساز وہ پھبن
280

وہ زیب و زین زین کی وہ ساز وہ پھبن

زیور سے جیسے ہوتی ہے آراستہ دلہن

281

چشمِ سیاہ دیدۂ آہو پہ طعنہ زن

سرعت یہ تھی کہ بھولتے تھے چوکڑی ہرن

282

جادو تھا معجزہ تھا پری تھی طلسم تھا

پاکھر نہ تھی زرہ میں تہمتن کا جسم تھا

بند 95
Toggle stanza 95
رکھا قدم رکاب میں حیدر کے لال نے
283

رکھا قدم رکاب میں حیدر کے لال نے

نعلین پاک فخر سے چوما ہلال نے

284

بخشی جو صدرِ زیں کو ضیا خوش جمال نے

دم کو چنور کیا فرس بے مثال نے

285

کس ناز سے وہ رشکِ غزالِ ختن چلا

طاؤس تھا کہ سیر کو سوئے چمن چلا

بند 96
Toggle stanza 96
خوشبو سے ارضِ پاک ریاضِ جناں بنی
286

خوشبو سے ارضِ پاک ریاضِ جناں بنی

گرد اٹھ کے غازۂ رخ لیلیٰ نشاں بنی

287

جلوے سے راہِ دشتِ بلا کہکشاں بنی

ذرے بنے نجوم زمیں آسماں بنی

288

سم بدر تھے تو نعل بھی چاروں ہلال تھے

نقشِ سم فرس سے ہزاروں ہلال تھے

بند 97
Toggle stanza 97
وہ دبدبہ وہ سطوتِ شاہانہ وہ شباب
289

وہ دبدبہ وہ سطوتِ شاہانہ وہ شباب

تھرا رہا تھا جس کی جلالت سے آفتاب

290

وہ رعبِ حق کہ شیر کا زہرہ ہو آب آب

صولت میں فرد دفترِ جرأت میں انتخاب

291

تیور میں سارے طور خدا کے ولی کے ہیں

شوکت پکارتی ہے کہ بیٹے علی کے ہیں

بند 98
Toggle stanza 98
پہونچے جو دشتِ کیں میں اڑاتے ہوئے فرس
292

پہونچے جو دشتِ کیں میں اڑاتے ہوئے فرس

گھوڑے کو ہاتھ اٹھا کے یہ آواز دی کہ بس

293

دیکھیں صفیں جمی جو چپ و راس و پیش و پس

نعرہ کیا کہ نہر پہ جانے کی ہے ہوس

294

روکے گا جو وہ موت کے پنجے میں آئے گا

ہٹ جاؤ سب کہ شیر ترائی میں جائے گا

بند 99
Toggle stanza 99
روکے ہمیں نکل کے جو طاقت کسی میں ہو
295

روکے ہمیں نکل کے جو طاقت کسی میں ہو

لے تیغ میان سے جو شجاعت کسی میں ہو

296

گرمائے رخش کو جو حرارت کسی میں ہو

آئے جو حرب ضرب کی قدرت کسی میں ہو

297

دو ہاتھ میں علی کے پسر آر پار ہیں

دریا نہیں کہ رک گیا ہم ذوالفقار ہیں

بند 100
Toggle stanza 100
تم کیا پہاڑ بیچ میں گر ہو تو ٹال دیں
298

تم کیا پہاڑ بیچ میں گر ہو تو ٹال دیں

شیروں کو ہم ترائی سے باہر نکال دیں

299

مہلت نہ ایک کو دم جنگ و جدال دیں

پانی تو کیا ہے آگ میں گھوڑے کو ڈال دیں

300

منہ دیکھتے ہیں جو ہیں نگہبان گھاٹ کے

لے جائیں گھر پہ تیغ سے دریا کو کاٹ کے

بند 101
Toggle stanza 101
سرکش ہیں سب ہماری زبردستوں سے زیر
301

سرکش ہیں سب ہماری زبردستوں سے زیر

دادا شجاع باپ اولوالعزم ہم دلیر

302

جب رن پڑا ہے کردیے ہیں زخمیوں کے ڈھیر

لائے ہیں جا کے آگ سے پانی خدا کے شیر

303

عفریت بھاگتے ہیں وہ چوٹیں ہماری ہیں

بیر العلم میں کود کے تلواریں ماری ہیں

بند 102
Toggle stanza 102
جرأت جلو میں رہتی ہے نصرت رکاب میں
304

جرأت جلو میں رہتی ہے نصرت رکاب میں

لیتے ہیں گھاٹ پیر کے تیغوں کی آب میں

305

لکھے ہوئے ہیں شیروں کے حملے کتاب میں

فصلیں ہیں اپنے زور کی خیبر کے باب میں

306

ناصر ہیں بادشاہ فلک بارگاہ کے

دفتر الٹ دیے ہیں عرب کی سپاہ کے

بند 103
Toggle stanza 103
بے مشک کے بھرے ہمیں آتا ہے چین کب
307

بے مشک کے بھرے ہمیں آتا ہے چین کب

گرمی میں پیاس سے کئی بچے ہیں جاں بلب

308

اصغر کی گودیوں میں تڑپتے کٹی ہے شب

کیا وقت ہے حسین کے بچوں پہ ہے غضب

309

لالے پڑے ہوئے ہیں سکینہ کی جان کے

کانٹے مجھے دکھائے تھے سوکھی زبان کے

بند 104
Toggle stanza 104
عبرت کی یہ جگہ ہے کہ ہم اور سوالِ آب
310

عبرت کی یہ جگہ ہے کہ ہم اور سوالِ آب

سقہ بنے ہیں دیکھ کے بچوں کا اضطراب

311

اس مشک نے کیا ہمیں عقبیٰ میں کامیاب

اللہ ری آبرو کہ بہشتی ملا خطاب

312

شہ سے نشانِ فوجِ پیمبر بھی مل گیا

طوبیٰ کے ساتھ چشمۂ کوثر بھی مل گیا

بند 105
Toggle stanza 105
یہ ذکر تھا کہ فوج کی جانب سے تیر آئے
313

یہ ذکر تھا کہ فوج کی جانب سے تیر آئے

نیزے اٹھا کے شیر کے منہ پر شریر آئے

314

یہ بھی جھپٹ کے مثلِ شہِ قلعہ گیر آئے

گیتی ہلی غضب میں جناب امیر آئے

315

گھوڑا اڑا پروں کو سواروں کے توڑ کے

لپکی صفوں پہ سیف بھی کاٹھی کو چھوڑ کے

بند 106
Toggle stanza 106
آمد تھی تیغ کی کہ اجل کا پیام تھا
316

آمد تھی تیغ کی کہ اجل کا پیام تھا

یہ صف اخیر تھی وہ رسالہ تمام تھا

317

بجلی سا ہر جگہ فرس تیز گام تھا

ششدر تھی موت چار طرف قتلِ عام تھا

318

اس غول پر کبھی تھی کبھی اس قطار پر

پڑتا تھا ایک تیغ کا سایہ ہزار پر

بند 107
Toggle stanza 107
وہ تیغ کی چمک وہ تڑپ راہوار کی
319

وہ تیغ کی چمک وہ تڑپ راہوار کی

رفرف کی اک شبیہ تو اک ذوالفقار کی

320

شوکت سوار میں شہ دلدل سوار کی

حملوں میں شان سب اسدِ کردگار کی

321

چتون وہی غضب وہی بے باکیاں وہی

پھرتی وہی جھپٹ وہی چالاکیاں وہی

بند 108
Toggle stanza 108
توڑا یہ مورچہ یہ صف الٹی ادھر پھرے
322

توڑا یہ مورچہ یہ صف الٹی ادھر پھرے

تلوار خوں میں آپ پسینے میں تر پھرے

323

یوں خاک پہ گرا کے لعینوں کے سر پھرے

جیسے شکار کھیلے ہوئے شیرِ نر پھرے

324

تھی قہر کی نگاہ غضب کا جلال تھا

آنکھیں بھی سرخ سرخ تھیں چہرہ بھی لال تھا

بند 109
Toggle stanza 109
منہ پھر گئے سپاہ کے جس سمت رخ کیا
325

منہ پھر گئے سپاہ کے جس سمت رخ کیا

یاں سے وہاں گئے اسے مارا اسے لیا

326

باقی رہے ہزار میں سو دس میں ایک جیا

اللہ رے دم لہو پہ لہو تیغ نے پیا

327

اس پر بھی تشنگی کو نہ تسکیں ذری ہوئی

گویا تھی آگ پیٹ میں اس کے بھری ہوئی

بند 110
Toggle stanza 110
بے شک تھا ان کا ہاتھ امیرِ عرب کا ہاتھ
328

بے شک تھا ان کا ہاتھ امیرِ عرب کا ہاتھ

پہونچا وغا میں سو طرف اک تشنہ لب کا ہاتھ

329

آئی اجل اٹھا جو کسی بے ادب کا ہاتھ

شیرِ خدا کے شیر نے مارا غضب کا ہاتھ

330

بازو پہ آئی تیغ دو دم شانہ کاٹ کے

پہنچے کو بھی قلم کیا دستانہ کاٹ کے

بند 111
Toggle stanza 111
چلتا تھا مثلِ برق یمین و یسار ہاتھ
331

چلتا تھا مثلِ برق یمین و یسار ہاتھ

ڈر ڈر کے جوڑتے تھے ضلالت شعار ہاتھ

332

ان کی نہ ایک ضرب نہ ان کے ہزار ہاتھ

کافی تھے سب کو تیغِ دو دستی کے چار ہاتھ

333

آواز شش جہت میں بگیروبزن کی تھی

اللہ کا کرم تھا مدد پنجتن کی تھی

بند 112
Toggle stanza 112
نعرہ جدا صدائے بگیرِ و برہ جدا
334

نعرہ جدا صدائے بگیرِ و برہ جدا

گوشہ کماں سے دور تھے گوشوں سے زہ جدا

335

بکتر جدا زمین پہ ٹکڑے زرہ جدا

نیزوں کو دیکھیے تو گرہ سے گرہ جدا

336

اللہ رے فرق گردن وسر بھی بہم نہ تھے

کشتوں کا ذکر کیا ہے کہ تیغوں میں دم نہ تھے

بند 113
Toggle stanza 113
جس کی طرف نظر دمِ جنگ و جدل پھری
337

جس کی طرف نظر دمِ جنگ و جدل پھری

کچھ ہٹ کے تیغ سے اسی جانب اجل پھری

338

رہوار یوں پھرا کہ اشارے میں کل پھری

تلوار بھی گلوں کی طرف بر محل پھری

339

ایسے جری سے کس کو مجالِ مصاف تھی

یوں پھر کے صف کی صف کو جو دیکھا تو صاف تھی

بند 114
Toggle stanza 114
چل پھر کے کاٹتی تھی وہ تلواریں ہاتھ پاؤں
340

چل پھر کے کاٹتی تھی وہ تلواریں ہاتھ پاؤں

ڈر سے بڑھا نہ سکتے تھے خونخوار ہاتھ پاؤں

341

سر بچ گیا تو ہو گئے بیکار ہاتھ پاؤں

چمکی گری تو آٹھ ہوئے چار ہاتھ پاؤں

342

روحیں پکاریں تیغ پھر آئی نکل چلو

بولی اجل اب اٹھ کے تو پنجوں کے بل چلو

بند 115
Toggle stanza 115
تیر ادھر قلم تو ادھر برچھیاں قلم
343

تیر ادھر قلم تو ادھر برچھیاں قلم

ترکش دو نیم ٹکڑے کمانیں نشاں قلم

344

ہر ہاتھ میں قلم کی طرح استخواں قلم

منہ تیغ کا خراب سناں کی زباں قلم

345

جب سن سے آئی سر پہ کسی بد خصال کے

گویا سموم چل گئی پھولوں پہ ڈھال کے

بند 116
Toggle stanza 116
کی جس نے سر کشی وہی فتنہ فروہوا
346

کی جس نے سر کشی وہی فتنہ فروہوا

ظالم ہزار میں تھا جو یکتاوہ دو ہوا

347

افشاں لہو سے شیر کا دستِ نکو ہوا

ٹھنڈا وہی تھا جنگ پر سرگرم جو ہوا

348

تھا خاتمہ سپاہ جہنم مقام کا

شعلے بجھائے دیتا تھا پانی حسام کا

بند 117
Toggle stanza 117
وہ تیغ کھول دیتی تھی لوہے کا بھی حصار
349

وہ تیغ کھول دیتی تھی لوہے کا بھی حصار

تھا اس کے ہاتھ سے دلِ چار آئینہ فگار

350

آری تھیں منہ پہ تیغوں کے ایسے پڑے تھے وار

خود اپنے سر پٹکتے تھے گر گر کے بار بار

351

پانی وہ زہر تھا کہ پیا اور فنا ہوا

ہے آج تک زرہ کا کلیجہ چھنا ہوا

بند 118
Toggle stanza 118
جاتی تھی ہر سرے کی طرف سن کے بار بار
352

جاتی تھی ہر سرے کی طرف سن کے بار بار

چڑھ کے سوار گرتے تھے توسن کے بار بار

353

اٹھتی تھی الاماں کی صدا رن سے بار بار

ہر سر کا بار اترتا تھا گردن سے بار بار

354

غارت ہوئے تباہ ہوئے بے تزک ہوئے

ضربِ گراں جو اٹھ نہ سکی کیا سبک ہوئے

بند 119
Toggle stanza 119
ثابت رہی نہ ڈھال نہ مغفر نہ سر بچا
355

ثابت رہی نہ ڈھال نہ مغفر نہ سر بچا

سینے میں دل کو کاٹ گئی گر جگر بچا

356

دو ٹکڑے ہو گیا وہ ادھر جو ادھر بچا

بے زخم کھائے ایک نہ بیداد گر بچا

357

تلوار سے کوئی کوئی ڈر سے ہلاک تھا

سالم تھا جس کا جسم جگر اس کا چاک تھا

بند 120
Toggle stanza 120
سر سے کمر میں تھی تو کمر سے تہ فرس
358

سر سے کمر میں تھی تو کمر سے تہ فرس

آفت کا منہ تھا قہر کا دم خم ستم کا کس

359

کشتے تڑپ رہے تھے چپ و راس پیش و پس

دو تھے اگر تو چار ہوئے پانچ تھے تو دس

360

غل تھا وہی لڑے جسے سر تن پہ بار ہو

آفت بپا ہے کون اجل سے دو چار ہو

بند 121
Toggle stanza 121
غل تھا شرارتوں سے اس آتش زبان کی
361

غل تھا شرارتوں سے اس آتش زبان کی

پریاں پکارتی تھیں کہ ہو خیر جان کی

362

دنیا میں شعلہ بار ہے آگ اس جہان کی

بدلی ہوئی ہے آج ہوا آسمان کی

363

بجلی خجل ہے ناز یہ اس شعر خو کے ہیں

بوچھاڑ ہے سروں کی در یڑے لہو کے ہیں

بند 122
Toggle stanza 122
جب بڑھ کے سن سے صورتِ تیغ علی چلی
364

جب بڑھ کے سن سے صورتِ تیغ علی چلی

ثابت ہوا کہ ضربتِ دستِ ولی چلی

365

دل پر خفی چلی تو گلوں پر جلی چلی

تن سے نکل کے روح پکاری چلی چلی

366

دی تیغ نے صدا کہ ارادہ کدھر کا ہے

چلائی موت چل یہی رستا سقر کا ہے

بند 123
Toggle stanza 123
خشکی میں تھی جو آپ تو آتش تری میں تھی
367

خشکی میں تھی جو آپ تو آتش تری میں تھی

ہم نام ذوالفقار علی صفدری میں تھی

368

تلوار تھی کہ برق لباس پری میں تھی

بے باک اس لیے تھی کہ دستِ جری میں تھی

369

خوں بھی اسے حلال دیت بھی معاف تھی

کاٹا تھا سو گلوں کو مگر پاک صاف تھی

بند 124
Toggle stanza 124
سارے رسالہ دار تباہی میں پڑ گئے
370

سارے رسالہ دار تباہی میں پڑ گئے

اب منہ کسے دکھائیں کہ چہرے بگڑ گئے

371

نامی جو تھے جواں قدم ان کے اکھڑ گئے

بھاگے جو سب نشاں بھی خجالت سے گڑ گئے

372

علموں کے پاس ڈھیرے پھریروں کے رن میں تھے

ریتی پہ بیرقیں تھیں کہ مردے کفن میں تھے

بند 125
Toggle stanza 125
پہنے ہوئے تھے جسم میں زرہیں جو چست چست
373

پہنے ہوئے تھے جسم میں زرہیں جو چست چست

چوٹیں کڑی پڑیں تو ہوئے وہ بھی سخت سست

374

خوفِ اجل سے بھول گئے وعدۂ نخست

ٹوٹی صفوں میں ہاتھ کسی کے نہ تھے درست

375

اک شور تھا کہ جان گئی اس لڑائی میں

گھوڑے بھگاؤ آگ لگی ہے ترائی میں

بند 126
Toggle stanza 126
گھیرے تھے ایک جان کو دو لاکھ اہلِ شہر
376

گھیرے تھے ایک جان کو دو لاکھ اہلِ شہر

ٹھہرے کہاں قرار کہاں لیں تھمیں کدھر

377

چھاتی کے پاس برچھیاں تیغیں قریبِ سر

پہلو میں اس طرف تو سنائیں ادھر تبر

378

ملتی نہ تھی اماں سپہ تیرہ بخت سے

گوشوں سے تیر چلتے تھے پتھر درخت سے

بند 127
Toggle stanza 127
جب مشک کی طرف کوئی آتا تھا سن سے تیر
379

جب مشک کی طرف کوئی آتا تھا سن سے تیر

کہتے تھے یا حفیظ کبھی گاہ یا قدیر

380

چلا رہا تھا شمر جفا پیشہ و شریر

جانے نہ پائے لختِ دلِ شاہ قلعہ گیر

381

رخ اس جری کا خیمہ کی جانب سے موڑ دو

ہاں برچھیوں سے شیر کے سینہ کو توڑ دو

بند 128
Toggle stanza 128
سن کر زباں درازیِ شہرِ ستم شعار
382

سن کر زباں درازیِ شہرِ ستم شعار

عباس مثلِ شیر جھپٹتے تھے بار بار

383

تلواریں سیکڑوں تھیں ہزاروں تھے نیزہ دار

توڑی اگر یہ صف تو جمی دوسری قطار

384

تنہا سنبھالے مشک و علم یا وغا کرے

بلوہ ہو ساری فوج کا جس پر وہ کیا کرے

بند 129
Toggle stanza 129
مشہور ہے کہ ایک پہ بھاری ہیں دو بشر
385

مشہور ہے کہ ایک پہ بھاری ہیں دو بشر

در پے تھے اک جواں کے لیے لاکھ اہلِ شر

386

کھائے ادھر سے زخم جو کی اس طرف نظر

کس کس کا وار رد کریں دیکھیں کدھر کدھر

387

جب دم لیا تو سینہ پہ سو تیر چل گئے

پہلو کو توڑ توڑ کے نیزے نکل گئے

بند 130
Toggle stanza 130
سینہ سپر تھے مشک پہ روکے ہوئے تھے ڈھال
388

سینہ سپر تھے مشک پہ روکے ہوئے تھے ڈھال

لڑنے میں بھی حسین کے بچوں کا تھا خیال

389

کہتا تھا ڈگمگا کے فرس پر وہ خوش خصال

فرزند کو سنبھالیے یا شیرِ ذوالجلال

390

جا پہنچوں مشک لے کے جو تھوڑی سی راہ ہو

ایسا نہ ہو کہ پیاسوں کی کشتی تباہ ہو

بند 131
Toggle stanza 131
یہ کہتے تھے کہ ٹوٹ پڑا لشکرِ کثیر
391

یہ کہتے تھے کہ ٹوٹ پڑا لشکرِ کثیر

بس چور ہو گیا پسرِ شاہ قلعہ گیر

392

آکر لگا میان دو ابرو جو ایک تیر

تیور اگیا علی ٔولی کا مہ منیر

393

چھوٹی جو باگ پاؤں فرس کے بھی رک گئے

پھیلا کے ہاتھ مشک سکینہ پہ جھک گئے

بند 132
Toggle stanza 132
اب یاں تو خاتمہ ہے سنو اس طرف کا حال
394

اب یاں تو خاتمہ ہے سنو اس طرف کا حال

ڈیوڑھی پہ ننگے سر ہے رسولِ خدا کا لال

395

غم سے کمر جھکی ہوئی رخ زرد جی نڈھال

یہ کرب ہے کہ ہوتا ہے جو وقتِ انتقال

396

گر گر اٹھے تڑپ کے ادھر سے ادھر گئے

جب آہ کی تو سب نے یہ جانا کہ مر گئے

بند 133
Toggle stanza 133
فریاد کر کے دل کبھی تھاما جگر کبھی
397

فریاد کر کے دل کبھی تھاما جگر کبھی

پکڑی طناب خیمے کی گہ اور کمر کبھی

398

گھبرا کے پیارے بھائی کو پوچھی خبر کبھی

روئے پسر کی دوش پہ رکھ کھر کے سر کبھی

399

کی آہ سامنے کبھی زہرا کی جائی کے

رو کر کبھی لپٹ گئے بیٹے سے بھائی کے

بند 134
Toggle stanza 134
فرماتے تھے کراہ کے اکبر سے بار بار
400

فرماتے تھے کراہ کے اکبر سے بار بار

شانے دباؤ اے علی اکبر پدر نثار

401

کیسا یہ درد ہے کہ جگر کو نہیں قرار

بازو کا زور لے گئے عباسِ نامدار

402

واحسرتا کہ بے کس و بے یار ہو گئے

سر پیٹیں کس سے ہاتھ تو بیکار ہو گئے

بند 135
Toggle stanza 135
چلاتے تھے کہ جانِ برادر بس اب پھر آؤ
403

چلاتے تھے کہ جانِ برادر بس اب پھر آؤ

پہونچا ہے دم لبوں پہ ہمیں آ کے دیکھ جاؤ

404

بھیا خدا کے واسطے اب برچھیاں نہ کھاؤ

عباس ہم اخیر ہیں تشریف جلد لاؤ

405

پیاری تمہاری ننھے سے ہاتھوں کو ملتی ہے

اب تم کو ڈھونڈھنے کو سکینہ نکلتی ہے

بند 136
Toggle stanza 136
حضرت تو پیٹتے ہیں یہ کہہ کر بہ صد ملال
406

حضرت تو پیٹتے ہیں یہ کہہ کر بہ صد ملال

خیمے میں غش ہے زوجہ عباسِ خوش خصال

407

ڈیوڑھی پہ اہلِ بیت ہیں سب کھولے سر کے بال

پردے سے منہ نکالے ہیں اطفالِ خورد سال

408

لب ان کے اودے اودے ہیں منہ گورے گورے ہیں

آنکھوں میں اشک ہاتھوں میں خالی کٹورے ہیں

بند 137
Toggle stanza 137
کہتے ہیں سب لبوں پہ زبانوں کو پھیر کر
409

کہتے ہیں سب لبوں پہ زبانوں کو پھیر کر

اب پانی لے کے آتے ہیں عباس نام ور

410

حضرت سے پوچھتی ہے سکینہ بہ چشمِ تر

میرے چچا کب آئیں گے یا شاہِ بحر و بر

411

کیا میں سفر کروں گی جہاں سے تب آئیں گے

بہلاتے ہیں حسین کہ بی بی اب آئیں گے

بند 138
Toggle stanza 138
گھیرے ہیں لاکھ ان کو ستمگار ہائے ہائے
412

گھیرے ہیں لاکھ ان کو ستمگار ہائے ہائے

مانگو دعا کہ بھائی کو میرے خدا بچائے

413

وہ کہتی ہے میں پانی سے گذری نہ مشک آئے

ہے ہے بس اب چچا کو مرے کوئی پھیر لائے

414

رکھے خدا جہاں میں علی کی نشانی کو

میں کیا کروں گی آگ لگے ایسے پانی کو

بند 139
Toggle stanza 139
یہ ذکر تھا کہ فتح کے باجے بجے ادھر
415

یہ ذکر تھا کہ فتح کے باجے بجے ادھر

تڑپے زمیں پہ گر کے شہنشاہِ بحر و بر

416

چلائے بڑھکے فوج سے دو چار اہلِ شر

حضرت کہاں ہیں مر گئے عباسِ نامور

417

کیا کیا چلی ہیں تیغوں پہ تیغیں لڑائی میں

وہ زخم کھائے شیر پڑا ہے ترائی میں

بند 140
Toggle stanza 140
افشاں ہیں سر کے خون کی چھینٹوں سے سب نشاں
418

افشاں ہیں سر کے خون کی چھینٹوں سے سب نشاں

عباس کانپ جاتے تھے جھکتا تھا جب نشاں

419

نام آوروں نے آج مٹایا عجب نشاں

کیوں اے حسین کون اٹھائے گا اب نشاں

420

لاش ان کی پائمال ہوئی زخم پھٹ گئے

جن میں علی کا زور تھا وہ ہاتھ کٹ گئے

بند 141
Toggle stanza 141
آئی صدا یہ نہر کی جانب سے ایک بار
421

آئی صدا یہ نہر کی جانب سے ایک بار

آقا تمام ہوتا ہے یہ عبدِ جاں نثار

422

تن سے نکل کے آنکھوں میں اٹکی ہے جانِ زار

اب ہے فقط حضور کے آنے کا انتظار

423

بابا کے ساتھ خلد سے تشریف لائی ہیں

حضرت کی والدہ مرے لینے کو آئی ہیں

بند 142
Toggle stanza 142
شہ دوڑ کر پکارے کہ آتا ہوں بھائی جان
424

شہ دوڑ کر پکارے کہ آتا ہوں بھائی جان

گھر لٹ گیا ہے خاک اڑاتا ہوں بھائی جان

425

طاقت بدن میں اب نہیں پاتا ہوں بھائی جان

اک اک قدم پہ ٹھوکریں کھاتا ہوں بھائی جان

426

دستِ شکستہ بیٹے کی گردن میں ڈالے ہیں

بھیا ہمیں تو اکبر مہ رو سنبھالے ہیں

بند 143
Toggle stanza 143
دیکھا جو در سے بنتِ علی نے یہ شہ کا حال
427

دیکھا جو در سے بنتِ علی نے یہ شہ کا حال

ڈیوڑھی سے نکلی چند قدم کھولے سر کے بال

428

چلاتی کون قتل ہوا اے علی کے لال

مڑ کر کہا حسین نے عباس خوش خصال

429

دریا پہ فوجِ شام نے مارا دلیر کو

زینب اجل نے چھین لیا میرے شیر کو

بند 144
Toggle stanza 144
خورشید مشرقین زمانے سے اٹھ گیا
430

خورشید مشرقین زمانے سے اٹھ گیا

سید کا نور عین زمانے سے اٹھ گیا

431

وہ عاشقِ حسین زمانے سے اٹھ گیا

زینب ہمارا چین زمانے سے اٹھ گیا

432

آتا نہیں قرار دلِ بے قرار کو

دریا پہ روئے جاتے ہیں خدمت گزار کو

بند 145
Toggle stanza 145
اکبر کو ہاتھ اٹھا کے پکاری وہ سوگوار
433

اکبر کو ہاتھ اٹھا کے پکاری وہ سوگوار

ہے ہے حسین ہو گئے بے یار و غم گسار

434

ماتم جوان بھائی کا ہے تم پہ میں نثار

اکبر خدا کے واسطے بابا سے ہوشیار

435

گرنے لگیں تو حیدرِ صفدر کا نام لو

بیٹا پدر کے ہاتھ کو مضبوط تھام لو

بند 146
Toggle stanza 146
اکبر پدر کو تھامے ہوئے نہر پر جو لائے
436

اکبر پدر کو تھامے ہوئے نہر پر جو لائے

غلطاں لہو میں بازوئے سرور کے ہاتھ پائے

437

چلائے شاہ لاش کدھر ہے کوئی بتائے

فرق آگیا ہماری بصارت میں ہائے ہائے

438

رو لیں گلے لگا کے تنِ پاش پاش کو

اکبر ہمیں دکھا دو برادر کی لاش کو

بند 147
Toggle stanza 147
اکبر نے شہ کے ہاتھ پکڑ کر بہ صد بکا
439

اکبر نے شہ کے ہاتھ پکڑ کر بہ صد بکا

رکھے چچا کے سینے پہ اور رو کے یہ کہا

440

لیجے یہی ہے لاشِ علمدار باوفا

چلائے جھک کے لاش پہ سلطانِ کربلا

441

ٹوٹی ہوئی کمر ہے سنبھالو حسین کو

بھیا ذرا گلے سے لگالو حسین کو

بند 148
Toggle stanza 148
عباس ہاتھ کٹ گئے شانوں سے ہے غضب
442

عباس ہاتھ کٹ گئے شانوں سے ہے غضب

ریتی پہ دو طرف یہ تمہارا لہو ہے سب

443

لوٹا ہمیں رسول کی امت نے بے سبب

بھیا ہماری جان نکلتی ہے تن سے اب

444

مر جائیں گے جلا دو ہمیں منہ سے بول کر

دو باتیں کر لو بھائی سے آنکھوں کو کھول کر

بند 149
Toggle stanza 149
کیوں خاک پر دھرے ہو یہ رخسار خوں میں تر
445

کیوں خاک پر دھرے ہو یہ رخسار خوں میں تر

آؤ ہم اپنے زانو پہ رکھیں تمہارا سر

446

لیتے ہو کیوں کراہ کے کروٹ ادھر ادھر

ثابت ہوا کہ جلد ہے دنیا سے اب سفر

447

ہے ہے دلیلِ مرگ ہے لکنت زبان کی

ہچکی نہیں یہ جسم سے رخصت ہے جان کی

بند 150
Toggle stanza 150
غش میں سنی جو گریۂ شبیر کی صدا
448

غش میں سنی جو گریۂ شبیر کی صدا

چونکے تڑپ کے حضرتِ عباس باوفا

449

آہستگی پہ عرض کہ اے سبطِ مصطفا

اس پیار کے نثار اس الطاف کے فدا

450

زیبا ہے نکلے جان اگر پیشوائی کو

گویا رسول آئے ہیں مشکل کشائی کو

بند 151
Toggle stanza 151
یہ کہہ کے روئے شہ کی طرف کی نظر بہ غور
451

یہ کہہ کے روئے شہ کی طرف کی نظر بہ غور

جھک کر پکارے شاہ کہ بھیا کہو کچھ اور

452

تڑپا قدم پہ شہ کے وہ مقتولِ ظلم و جور

لیں ہچکیاں بگڑنے لگے تیوروں کے طور

453

پتھرا کے چشمِ اشک فشاں بند ہو گی

تھرائے دونوں ہونٹ زباں بند ہو گئیں

بند 152
Toggle stanza 152
اکبر نے عرض کی کہ چچا جان مر گئے
454

اکبر نے عرض کی کہ چچا جان مر گئے

جھک کر پکارے شاہ کے بھیا کدھر گئے

455

منہ تو اٹھاؤ خاک سے رخسار بھر گئے

واحسرتا حسین کو بے آس کر گئے

456

اب کون دے گا دکھ میں نبی کے پسر کا ساتھ

دم بھر میں تم نے چھوڑ دیا عمر بھر کا ساتھ

بند 153
Toggle stanza 153
ہاں روؤ مومنو یہ بکا کا مقام ہے
457

ہاں روؤ مومنو یہ بکا کا مقام ہے

تم میں شریک روحِ رسولِ انام ہے

458

اب رخصتِ حسین علیہ السلام ہے

تاریخ آٹھویں ہے محرم تمام ہے

459

موت آئی تو شریکِ عزا کون ہوئے گا؟

جو سال بھر جیے گا وہ پھر شہ کو روئے گا

بند 154
Toggle stanza 154
آگے تمہارے مرتے جو عباس با وفا
460

آگے تمہارے مرتے جو عباس با وفا

پرسا نہ دیتے سبط رسولِ خدا کو کیا

461

تم سب کو دیکھتے ہیں شہنشاہِ کربلا

زہرا بھی ننگے سر ہیں قیامت کرو بپا

462

سمجھو شریکِ بزمِ شہِ مشرقین کو

دے لو جوان بھائی کا پرسا حسین کو

بند 155
Toggle stanza 155
پیٹو سروں کو ہوتا ہے اب مرثیہ تمام
463

پیٹو سروں کو ہوتا ہے اب مرثیہ تمام

لپٹو ضریح پاک سے کہہ کہہ کے یا امام

464

رخصت طلب ہے باپ سے اکبر سا لالہ فام

خاموش ہیں حسین نہیں کرتے کچھ کلام

465

مقتول ظلم و جور ہے اب رن میں فاطمہ

ہوتا ہے پنجتن میں کوئی دم میں خاتمہ

بند 156
Toggle stanza 156
بس اے انیسؔ روک لے اب خامہ کی عناں
466

بس اے انیسؔ روک لے اب خامہ کی عناں

یہ غم ہے جاں گزا نہ کبھی ہوئے گا بیاں

467

آنکھوں سے سامعین کے بھی اشک ہیں رواں

خالق سے عرض کر کہ اے خلاقِ انس و جاں

468

آنکھوں سے مس کروں میں مزار بتول کو

دکھلا دے جلد مرقد سبطِ رسول کو

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…