جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
Toggle stanza 1جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
فوجِ خدا پہ سایۂ ابرِ کرم ہوا
چرخ زبرجدی پے تسلیم خم ہوا
پنجے پہ سات بار تصدق حشم ہوا
دیکھا نہ تھا کبھی جو علم اس نمود کا
دونوں طرف کی فوج میں غل تھا درود کا
Toggle stanza 2وہ شان اس علم کی وہ عباس کا جلال
وہ شان اس علم کی وہ عباس کا جلال
نخلِ زمردی کے تلے تھا علی کا لال
پرچم پہ جان دیتی تھیں پریوں کا تھا یہ حال
غل تھا کہ دوشِ حور پہ بکھرے ہوئے ہیں بال
ہر لہر آبدار تھی کوثر کی موج سے
طوبیٰ بھی دب گیا تھا پھریرے کی اوج سے
Toggle stanza 3تھا پنجتن کا نور جو پنجے میں جلوہ گر
تھا پنجتن کا نور جو پنجے میں جلوہ گر
اعمیٰ کی پتلیوں میں بھی تھا روشنی کا گھر
ذرے نثار کرتے تھے اٹھ اٹھ کے اپنا زر
تکتے تھے فوق سے تو ملک تخت سے بشر
اللہ ری چمک علمِ بوتراب کی
تارِ نظر بنی تھی کرن آفتاب کی
Toggle stanza 4قربان احتشام علمدار نام ور
قربان احتشام علمدار نام ور
رخ پر جلالت شہ مرداں تھی سر بسر
چہرہ تو آفتاب سا اور شیر کی نظر
قبضے میں تیغ بر میں زرہ دوش پر سپر
چھایا تھا رعب لشکرِ ابنِ زیادؔ پر
غل تھا چڑھے ہیں شیر الٰہی جہاد پر
Toggle stanza 5وہ اوج وہ جلال وہ اقبال وہ حشم
وہ اوج وہ جلال وہ اقبال وہ حشم
وہ نور وہ شکوہ وہ توقیر وہ کرم
پنجے کی وہ چمک وہ سر افرازیِ علم
گرتی تھی برق فوجِ مخالف پہ دم بہ دم
کیا رفعتِ نشانِ سعادت نشان تھی
سائے میں جس نشان کے طوبیٰ کی شان تھی
Toggle stanza 6پنجہ اٹھا کے ہاتھ یہ کہتا تھا بار بار
پنجہ اٹھا کے ہاتھ یہ کہتا تھا بار بار
عالم میں پنجتن کی بزرگی ہے آشکار
یہ شش جہت انہیں کے قدم سے ہے برقرار
کیوں ہفتہ دوست ہوتے ہو اے قوم نابکار
آٹھوں بہشت ملتے ہیں مولا کے نام سے
بیعت کرو حسین علیہ السلام سے
Toggle stanza 7غرفوں سے جھانک جھانک کے بولی ہر ایک حور
غرفوں سے جھانک جھانک کے بولی ہر ایک حور
صلِ علیٰ علم کی چمک ہے کہ برق طور
یارب رہے نگاہ بد اس کی ضیا سے دور
پنجہ ہے یہ کہ ایک جگہ پنجتن کا نور
جلوے ہیں سب محمد و حیدر کی شان کے
قربان اس جواں کے نثار اس نشان کے
Toggle stanza 8آگے کبھی نہ دیکھی تھی اس حسن کی سپاہ
آگے کبھی نہ دیکھی تھی اس حسن کی سپاہ
دنیا بھی خوبیوں کا مرقع ہے واہ واہ
دیکھیں کسے کسے کہ ہے ایک ایک رشکِ ماہ
جاتی ہے جس کے رخ پہ تو پھرتی نہیں نگاہ
دیکھو انہیں دموں سے ہے رونق زمین کو
چن کر حسین لائے ہیں کس کس حسین کو
Toggle stanza 9شہرہ بہت تھا حسن میں کنعاں کے ماہ کا
شہرہ بہت تھا حسن میں کنعاں کے ماہ کا
قصہ سنا ہوا ہے زلیخا کی چاہ کا
یاں آفتاب کو نہیں یارا نگاہ کا
یوسف ہے ایک ایک جواں اس سپاہ کا
سنتے تھے ہم کہ عالمِ ایجادِ زشت ہے
ایسے چمن کھلے ہیں کہ دنیا بہشت ہے
Toggle stanza 10ہم شکل مصطفیٰ کا ہے کیا حسن کیا جمال
ہم شکل مصطفیٰ کا ہے کیا حسن کیا جمال
صبحِ جبیں بھی اور شبِ گیسو بھی بے مثال
یہ لب یہ خط یہ چشم یہ ابرو یہ رخ یہ خال
یاقوت و مشک و نرگس و نجم و مہ و ہلال
اک گل پہ یاں ہزار طرح کی بہار ہے
چہرہ نہ کہیے قدرتِ پروردگار ہے
Toggle stanza 11لخت دلِ حسن بھی ہے کس مرتبہ حسیں
لخت دلِ حسن بھی ہے کس مرتبہ حسیں
جس کے چراغ حسن سے روشن ہے سب زمیں
یہ زلف مشک بیز یہ آئینہ جبیں
سرمایۂ خطا و ختن کائنات چیں
رخ کی بلائیں لیتی ہیں پریاں کھڑی ہوئی
سہرے کی ہر لڑی سے ہیں آنکھیں لڑی ہوئی
Toggle stanza 12نامِ خدا میں عون و محمد بھی کیا شکیل
نامِ خدا میں عون و محمد بھی کیا شکیل
اک مہر بے نظیر ہے اک بدرِ بے عدیل
افروختہ ہیں رخ یہ شجاعت کی ہے دلیل
ہمت بڑی ہے گو کہ ہیں عمریں ابھی قلیل
مثلِ علی ہیں جنگ و جدل پر تلے ہوئے
دونوں کے نیمچوں کے ہیں ڈورے کھلے ہوئے
Toggle stanza 13عباس نام ور بھی عجب سج کا ہے جوان
عباس نام ور بھی عجب سج کا ہے جوان
نازاں ہے جس کے دوشِ منور پہ خود نشان
حمزہ کا رعب صولت جعفرؔ علی کی شان
ہاشم کا دل حسین کا بازو ، حسن کی جان
کیوں کر نہ عشق ہو شہ گردوں جناب کو
حاصل ہیں سیکڑوں شرف اس آفتاب کو
Toggle stanza 14اس مہر کو تو دیکھو یہ ذرے ہیں جس کے سب
اس مہر کو تو دیکھو یہ ذرے ہیں جس کے سب
سرتاج آسمان و زمیں نورِ عرش رب
ابرِ کرم خدیو عجم خسرو عرب
عالی ہمم امامِ امم شاہِ تشنہ لب
جنباں زبانِ خشک ہے ذکر الٰہ میں
گویا کھڑے ہیں ختم رسل رزمگاہ میں
Toggle stanza 15کیا فوج تھی حسین کی اس فوج کے نثار
کیا فوج تھی حسین کی اس فوج کے نثار
ایک ایک آبروئے عرب فخرِ روزگار
جرار و دیں پناہ نمودار نامدار
لڑکوں میں سبزہ رنگ کوئی کوئی گل عذار
فوجیں کوئی سماتی تھیں ان کی نگاہ میں
وہ سب پلے تھے بیشہ شیر الہٰ میں
Toggle stanza 16ایک ایک ملک جرأت و ہمت کا بادشاہ
ایک ایک ملک جرأت و ہمت کا بادشاہ
کیواں خدم سپہر حشم عرشِ بارگاہ
آنکھیں غزالِ رشک مگر شیر کی نگاہ
وہ رعب چتونوں میں کہ اللہ کی پناہ
دیکھا تو دل کو توڑ کے برچھی نکل گئی
ابرو ذرا جو ہل گئے تلوار چل گئی
Toggle stanza 17وہ اشتیاقِ جنگ میں لڑکوں کے ولولے
وہ اشتیاقِ جنگ میں لڑکوں کے ولولے
بے تاب تھے کہ دیکھیے تلوار کب چلے
چہرے وہ آفتاب سے وہ چاند سے گلے
سب فاطمہ کی بیٹیوں کی گود کے پلے
اک اک رسولِ حق کی لحد کا چراغ تھا
جس پر علی نے کی تھی ریاضت وہ باغ تھا
Toggle stanza 18اکبر سے عرض کرتے تھے سینہ سپر کیے
اکبر سے عرض کرتے تھے سینہ سپر کیے
یہ نیمچے نہ لیویں گے دم بے لہو پییے
گر آج مر گئے تو قیامت تلک جیے
صدقے ہوں اس قدم پہ یہ سر ہیں اسی لیے
آقا کے آگے لطف ہے تیغ آزمائی کا
آج آپ دیکھیے گا تماشا لڑائی کا
Toggle stanza 19بچپن پہ خادمانِ اولوالعزم کے نہ جائیں
بچپن پہ خادمانِ اولوالعزم کے نہ جائیں
جب چاہیں معرکے میں ہمیں آپ آزمائیں
تن تن کے روکیں برچھیاں ہنس ہنس کے زخم کھائیں
بجلی گرے تو منہ پہ جھجک کر سپر نہ لائیں
جھپکے پلک کسی سے تو آنکھیں نکالیے
بڑھ کر ہٹیں جو پانوں تو سر کاٹ ڈالیے
Toggle stanza 20کہتے تھے مسکرا کے یہ زینب کے دونوں لال
کہتے تھے مسکرا کے یہ زینب کے دونوں لال
کھلتے ہیں خود دلیروں کے جوہر دمِ جدال
ہر وقت چاہیے مددِ شیر ذو الجلال
نعرے ابھی کریں تو ہلے عرصۂ قتال
اتری ہے تیغ جن کے لیے وہ دلیر ہیں
ہم سب کو جانتے ہیں کہ شیروں کے شیر ہیں
Toggle stanza 21یہ چہچہے جو کرتے تھے باہم وہ گلعذار
یہ چہچہے جو کرتے تھے باہم وہ گلعذار
شبیر دیکھتے تھے کنکھیوں سے بار بار
پاس آ کے عرض کرتے تھے عباسِ نامدار
سنتے ہیں آپ کہتے ہیں جو کچھ یہ جاں نثار
جرأت ٹپک رہی ہے ہر اک کے کلام سے
یہ نیمچے رکیں گے بھلا فوجِ شام سے
Toggle stanza 22یہ سن یہ زور شور یہ عمریں یہ آن بان
یہ سن یہ زور شور یہ عمریں یہ آن بان
یہ بھولے بھولے منہ پہ جواں مردیاں یہ شان
باتیں رجز سے کم نہیں اللہ رے خوش بیان
چلتی ہے ذوالفقار علی کی طرح زبان
کس دبدبے سے کاندھوں پہ نیزے سنبھالے ہیں
گویا چلن لڑائی کا سب دیکھے بھالے ہیں
Toggle stanza 23زینب کے لاڈلوں کی طرف دیکھیے حضور
زینب کے لاڈلوں کی طرف دیکھیے حضور
مثلِ عرق ٹپکتا ہے پیشانیوں سے نور
رخ پر جلال شیر خدا کا ہے سب ظہور
پرتو گلوں کا ہے کہ چمکتی ہے برقِ طور
دونوں میں صاف حیدر و جعفر کے طور ہیں
اللہ کی پناہ یہ تیوری ہی اور ہیں
Toggle stanza 24یہ ذکر تھا کہ بجنے لگا طبل اس طرف
یہ ذکر تھا کہ بجنے لگا طبل اس طرف
مشکل کشائی کی فوج نے باندھی ادھر بھی صف
تیروں نے رخ کیا سوئے ابنِ شہ نجف
سینوں کو غازیوں نے ادھر کر دیا ہدف
تھا بسکہ شوقِ جنگ ہر اک رشکِ ماہ کو
جوش آ گیا وغا کا حسینی سپاہ کو
Toggle stanza 25غصے سے آفتاب ہوئے مہ وشوں کے رنگ
غصے سے آفتاب ہوئے مہ وشوں کے رنگ
فوجوں پہ جا پڑیں یہ دلوں کی ہوئی امنگ
تن تن کے برچھیاں جو سنبھالیں برائے جنگ
بے چین ہو گئے فرسِ ابلق و سرنگ
پاسِ ادب سے شاہ کے صف بڑھ کے تھم گئی
پٹری ہر اک سوار کی گھوڑے پہ جم گئی
Toggle stanza 26تنتا ہوا بڑھا کوئی قبضے کو چوم کے
تنتا ہوا بڑھا کوئی قبضے کو چوم کے
بھالا کسی نے رکھ لیا کاندھے پہ جھوم کے
بولا کوئی یہ غول ہیں کیا شام و روم کے
ٹکڑے اڑائیں گے عمر و شمر شوم کے
نامرد ہیں جو آنکھ چراتے ہیں مرد سے
دونوں کو چار کر کے پھریں گے نبرد سے
Toggle stanza 27دو لاکھ سے نظر کسی غازی کی لڑ گئی
دو لاکھ سے نظر کسی غازی کی لڑ گئی
بل کھا کے رخ پہ زلف کسی کی اکڑ گئی
چتون کسی کی شورِ دہل سے بگڑ گئی
منہ سرخ ہو گیا شکن آبرو پہ پڑ گئی
نکلا کوئی سمند کو رانوں میں داب کے
غصے سے رہ گیا کوئی ہونٹوں کو چاب کے
Toggle stanza 28بڑھ کر کسی نے تیر ملایا کمان سے
بڑھ کر کسی نے تیر ملایا کمان سے
نیزہ کوئی ہلانے لگا آن بان سے
نعرہ کسی کا پار ہوا آسمان سے
تلوار کھینچ لی کسی صفدر نے میان سے
ایک شور تھا کہ تلخ کیا ہے حیات کو
لاشوں سے چل کے پاٹ دو نہرِ فرات کو
Toggle stanza 29سنتے ہی یہ کلام جوانان نام ور
سنتے ہی یہ کلام جوانان نام ور
لڑکے الگ کھڑے ہوئے غول اپنا باندھ کر
کہتے تھے نیمچے لیے وہ غیرتِ قمر
یارب شکست کوفیوں کو دے ہمیں ظفر
سرکے نہ پھر وغا میں جو بڑھ کے قدم گڑے
جاکر درِ یزید پہ اپنا علم گڑے
Toggle stanza 30عباس شہ سے کہتے تھے بپھرے ہوئے ہیں شیر
عباس شہ سے کہتے تھے بپھرے ہوئے ہیں شیر
تیر اس طرف سے آ چکے اب کس لیے ہے دیر
دو دن کی بھوک پیاس میں ہیں زندگی سے سیر
مولا غلام سے کہیں رکنے کے یہ دلیر
پاسِ ادب سے غیظ کو ٹالے ہوئے ہیں یہ
شیر خدا کی گود کے پالے ہوئے ہیں یہ
Toggle stanza 31کس کو ہٹائے کس کو سنبھالے یہ جاں نثار
کس کو ہٹائے کس کو سنبھالے یہ جاں نثار
مرنے پہ ایک دل ہیں بہتر وفا شعار
ہے مصلحت کو دیجیے اب اذن کار زار
ایسا نہ ہو کہ جا پڑیں لشکر پہ ایک بار
برہم ہیں سر کشی پہ سوارانِ شام کی
اکبر کی بات مانتے ہیں نہ غلام کی
Toggle stanza 32جب روکتا ہوں میں انہیں اے آسماں سریر
جب روکتا ہوں میں انہیں اے آسماں سریر
کہتے ہیں کیوں امام کی جانب لگائے تیر
باندھے ہے سر کشی پہ کمر لشکرِ شریر
ہنگام جنگ شیر کے بچے ہوں گوشہ گیر
کس قہر کی نظر سے لعینوں کو تکتے ہیں
بچوں کو ہے یہ غیظ کہ آنسو ٹپکتے ہیں
Toggle stanza 33اک اک جری کو تشنہ جرأت کا جوش ہے
اک اک جری کو تشنہ جرأت کا جوش ہے
عالم ہے بے خودی کا پہ مرنے کا ہوش ہے
ہر صف میں یا علی ولی کا خروش ہے
کہتے ہیں بار بار کہ سر بارِ دوش ہے
مشتاق ہیں وہ پیاس میں تیغوں کے گھاٹ کے
ڈر ہے کہ مر نہ جائیں گلے کاٹ کاٹ کے
Toggle stanza 34حسرت سے کی سوئے رفقا شاہ نے نظر
حسرت سے کی سوئے رفقا شاہ نے نظر
بولے حبیب نذر کو حاضر ہیں سب کے سر
فرمایا شہ نے ہم بھی ہیں آمادۂ سفر
اچھا بڑھے جہاد کو ایک ایک نام ور
یہ راہِ حق ہے جو قدم آگے بڑھائے گا
دربارِ مصطفی میں وہی پہلے جائے گا
Toggle stanza 35مژدہ یہ سن کے شاد ہوئے غازیانِ دیں
مژدہ یہ سن کے شاد ہوئے غازیانِ دیں
اک اک دلیر جانے لگا سوئے فوج کیں
جب نعرہ زن ہوئے صفتِ شیر خشمگیں
تھرائے آسماں کے طبق ہل گئی زمیں
برپا تھا شورِ حشر دلیروں کی حرب سے
فوجیں تو کیا جہاں تہہ و بالا تھا ضرب سے
Toggle stanza 36اللہ رے جہاد حبیب و زہیرقین
اللہ رے جہاد حبیب و زہیرقین
گویا بپا تھا معرکۂ خندق و حنین
جب مر گئے وہ عاشقِ سلطان مشرقین
مقتل میں پیٹتے ہوئے دوڑے گئے حسین
یوں جاکے روئے ان کے تنِ پاش پاش پر
جس طرح بھائی روتا ہے بھائی کی لاش پر
Toggle stanza 37خالی ہوا قدیم رفیقوں کا جب پرا
خالی ہوا قدیم رفیقوں کا جب پرا
کانپا سپہر شہ نے دمِ سرد یوں بھرا
کٹنے لگا عزیزوں کا بھی جب چمن ہرا
گہ روئے آپ ہاتھ جگر پر کبھی دھرا
لڑکے جو یک بہ یک کئی ہاتھوں سے کھو گئے
ٹکڑے حسن کی طرح کلیجے کے ہو گئے
Toggle stanza 38تھی قہر حق عقیل کے پوتوں کی کارزار
تھی قہر حق عقیل کے پوتوں کی کارزار
شمشیر حیدری کا نمونہ تھے جن کے وار
عزت عرب کی رکھ گئے جعفر کے یادگار
تھے تین چار شیر کہ جھپٹے سوئے شکار
فتح و ظفر تھی مثلِ علی اختیار میں
پنجے میں تھا وہی جسے تاکا ہزار میں
Toggle stanza 39نکلے برادران علمدارِ صف شکن
نکلے برادران علمدارِ صف شکن
دکھلا دیے علی کی لڑائی کے سب چلن
بے سر تھے مورچوں میں جوانانِ پیل تن
لاشوں پہ لاشیں گرتی تھیں پڑتا تھا رن پہ رن
آنکھوں میں پھر رہی تھی چمک زوالفقار کی
عباس داد دیتے تھے ایک ایک وار کی
Toggle stanza 40تھا چھوٹے بھائیوں کے لیے مضطرب جو دل
تھا چھوٹے بھائیوں کے لیے مضطرب جو دل
گہ شہ کے پاس تھے کبھی لشکر کے متصل
نعرہ یہ تھا کہ شیر ہے ماں کا تمہیں بحل
شیرو رکے نہ ہاتھ بدن گو ہے مضمحل
یہ وقتِ آبرو ہے بڑی جد و کد کرو
ہاں بھائیو امام کی اپنے مدد کرو
Toggle stanza 41الٹو پروں کو بڑھ کے صفوں کو بچھا کے آؤ
الٹو پروں کو بڑھ کے صفوں کو بچھا کے آؤ
ساحل کے پاس خون کا دریا بہا کے آؤ
جب باگ اٹھاؤ فوج کے اس پار جا کے آؤ
یا مر کے آؤ یا انہیں رن سے بھگا کے آؤ
ہاں صفدر و نشاں نہ رہے فوجِ شام کا
بیٹوں کو پاس چاہیے بابا کے نام کا
Toggle stanza 42رہ کر حسین کہتے تھے بھائی سے دم بہ دم
رہ کر حسین کہتے تھے بھائی سے دم بہ دم
دولت پدر کی لٹتی ہے اور دیکھتے ہیں ہم
جینے نہ دے گا آہ ہمیں بھایئوں کا غم
عباس عرض کرتے تھے اے قبلۂ امم
اب باپ کی جگہ شہ عالی مقام ہیں
صدقے نہ کس طرح ہوں کہ ہم سب غلام ہیں
Toggle stanza 43بے جاں ہوئے جو راہِ خدا میں دو شیرِ نر
بے جاں ہوئے جو راہِ خدا میں دو شیرِ نر
حضرت ضعیف ہو گئے خم ہو گئی کمر
ماتم میں تھے کہ موت نے لوٹا حسن کا گھر
اک دم میں قتل ہو گئے دونوں جواں پسر
سب چل بسے نبی و علی پاس رہ گئے
ستر دو تن میں اکبر و عباس رہ گئے
Toggle stanza 44آیا نظر جو لاشۂ نوشاہِ نیک خو
آیا نظر جو لاشۂ نوشاہِ نیک خو
اکبر کی چشمِ تر سے ٹپکنے لگا لہو
کی غیظ کی نظر طربِ لشکرِ عدو
پہلے سے آئے روتے ہوئے شہ کے روبرو
نکلی یہ بات جوشِ بکا میں زبان سے
قاسم کے ساتھ جائیں گے ہم بھی جہان سے
Toggle stanza 45بچپن سے ہم سے یہ نہ ہوئے تھے کبھی جدا
بچپن سے ہم سے یہ نہ ہوئے تھے کبھی جدا
سوئے تو ایک فرش یہ کھیلے تو ایک جا
طفلی کا ساتھ چھوٹ گیا وامصیبتا
مرجائے ایسا بھائی تو جینے کا لطف کیا
حسرت یہ ہے کہ تیغوں سے تن پاش پاش ہو
پہلو میں ابنِ عم کے ہماری بھی لاش ہو
Toggle stanza 46شہ نے کہا کہ سچ ہے یہ ایسا ہی ہے الم
شہ نے کہا کہ سچ ہے یہ ایسا ہی ہے الم
خالق جہاں میں بھائی کا بھائی کو دے نہ غم
بازو کا ٹوٹنا اجل آنے سے کیا ہے کم
مر مر کے غم میں بھائی حسن کے جیے ہیں ہم
تازہ تھا غم پدر کا خوشی دل سے فوت تھی
عباسِ نامدار نہ ہوتے تو موت تھی
Toggle stanza 47بھائی کے بعد ان سے ملی لذتِ حیات
بھائی کے بعد ان سے ملی لذتِ حیات
بے کس کے غم گسار تھے یہ یا خدا کی ذات
خالی نہ پائی مہرو مروت سے کوئی بات
سویا جو میں تو ان کو کٹی جاگنے میں رات
صدمے بھلائے دل سے حسن کی جدائی کے
رونے نہیں دیا مجھے ماتم میں بھائی کے
Toggle stanza 48ہے ان کے اتحاد کا سب سے جدا مزا
ہے ان کے اتحاد کا سب سے جدا مزا
بیٹے کا لطف بھائی کاحظ باپ کا مزا
ملتا ہے بات بات میں ہر دم نیا مزا
اوجھل یہ آنکھ سے ہوں تو جینے کا کیا مزا
قائم رکھے خدا کہ علی کے نشان ہیں
مالک یہی ہیں گھر کے یہی تن کی جان ہیں
Toggle stanza 49قوت جگر کی تم ہو تو یہ بازوؤں کا زور
قوت جگر کی تم ہو تو یہ بازوؤں کا زور
بچھڑا جو دو میں ایک تو پھر میں کنار گور
ہوتا ہے زخمِ دل پہ نمک آنسوؤں کا شور
جب پتلیاں جدا ہوں تو چشمِ بشر ہے کور
تم پہلوؤں میں تھے جو یہ بے کس سنبھل گیا
پھر خاتمہ ہے جسم سے جب دم نکل گیا
Toggle stanza 50ان سے نشان علی کا ہے تم سے ہمارا نام
ان سے نشان علی کا ہے تم سے ہمارا نام
گھر ہٹ گیا نبی کا جو دونوں ہوئے تمام
میت کے دفن کا بھی مقدم ہے انتظام
مرنے کے بعد کوئی تو آئے ہمارے کام
تربت پہ تم سے گل ہوں تو دل باغ باغ ہو
اندھیر ہے جو قبر پدر بے چراغ ہو
Toggle stanza 51کیجو نہ ذکر ہجر پہ صدمہ ہے دل خراش
کیجو نہ ذکر ہجر پہ صدمہ ہے دل خراش
بہرِ پدر کرو کفن و گور کی تلاش
ہوگا یہ جسم ظلم کی تیغوں سے پاش پاش
دو شخص چاہیے کہ اٹھائیں ہماری لاش
رونے کو کوئی دوست نہ یارو سرہانے ہو
فرزند پائینتی ہو برادر سرہانے ہو
Toggle stanza 52اکبر نے سن کے باپ سے یہ اشکِ خوں بہائے
اکبر نے سن کے باپ سے یہ اشکِ خوں بہائے
عباس بول اٹھے نہ خدا وہ گھڑی دکھائے
ہے زندگی یہی کہ ہمیں پہلے موت آئے
خاک اس غلام پر کہ جو آقا کی لاش اٹھائے
دستِ قوی ہیں نیزہ وصمصام کے لیے
پائیں ہیں کیا یہ ہاتھ اسی کام کے لیے
Toggle stanza 53بس گر پڑا یہ کہہ کے قدم پر وہ باوفا
بس گر پڑا یہ کہہ کے قدم پر وہ باوفا
جھک کر کہا حسین نے بھائی یہ کیا کیا
قاسم کا ذکر کرتے تھے ہم شکلِ مصطفی
باتیں تو ان سے تھیں تمہیں کیوں غیظ آ گیا
ہم تم تو ساتھ گلشنِ ہستی سے جائیں گے
اچھا ہماری لاش کو اکبر اٹھائیں گے
Toggle stanza 54اٹھے قدم سے آپ کی الفت کے میں نثار
اٹھے قدم سے آپ کی الفت کے میں نثار
غصے میں بھول جاتے ہو بھیا ہمارا پیار
آنکھیں قدم پر مل کے یہ بولا وہ نام دار
بے اذن جنگ سر نہ اٹھائیں گا خاکسار
ایسا نہ ہوں خجل ہوں رسالت مآب سے
پہلے مروں گا اکبرِ عالی جناب سے
Toggle stanza 55صدقہ علی کی روح کا اکبر کو روکیے
صدقہ علی کی روح کا اکبر کو روکیے
دے کر قسم شبیہ پیمبر کو روکیے
نورِ نگاہِ بانوئے بے پر کو روکیے
اے آفتابِ دیں مہِ انور کو روکیے
پہلے رضا ملے تو بہت نیک نام ہوں
آقا یہ شاہزادہ ہے اور میں غلام ہوں
Toggle stanza 56شہ نے کہا کہ سر تو قدم سے اٹھائیے
شہ نے کہا کہ سر تو قدم سے اٹھائیے
لیجے رضائے جنگ نہ آنسو بہائیے
فرقت میں ہم مریں کہ جئیں خیر جائیے
اپنی سکینۂ جان سے جاکر مل آئیے
زوجہ کو پیٹتے ہوئے سر دیکھ لیجیے
بچوں کو اور ایک نظر دیکھ لیجیے
Toggle stanza 57عباس شہ کے گرد پھرے آٹھ کے سات بار
عباس شہ کے گرد پھرے آٹھ کے سات بار
بھائی کو گھر میں لے کے چلے شاہِ ذی وقار
بولا یہ پیک شاطر فوجِ ستم شعار
لو اذن جنگ پا چکے عباس نام دار
خود دیکھ کر یہ حال پھرا ہوں میں راہ سے
ملنے گئے ہیں خیمے میں ناموسِ شاہ سے
Toggle stanza 58تھے آگے آگے ہاتھوں سے تھامے کمر امام
تھے آگے آگے ہاتھوں سے تھامے کمر امام
نعرہ یہ دم بہ دم تھا کہ اب ہم ہوئے تمام
تیغوں سے گھاٹ روک لو آیا وہ نیک نام
اب معرکہ ہے قبر کا اے ساکنانِ شام
دیکھو بچے رہو کہ لڑائی ہے شیر سے
چھوٹے گی مشکلوں میں ترائی دلیر سے
Toggle stanza 59دل مل گئے سپاہ کے سنتے ہی یہ خبر
دل مل گئے سپاہ کے سنتے ہی یہ خبر
کانپے مثالِ بید جوانان پر جگر
ہل چل میں اس طرف کے پرے ہو گئے ادھر
ساحل سے ہٹ کے نہر پکاری کہ الحذر
پیچھے ہٹیں صفیں یہ تلاطم عیاں ہوا
دریا جو باڑھ پر تھا وہ الٹا رواں ہوا
Toggle stanza 60ٹوٹے وہ مورچے جو بندھے تھے پۓ جدال
ٹوٹے وہ مورچے جو بندھے تھے پۓ جدال
برچھی گری زمیں پہ کسی کی کسی کی ڈھال
اللہ ری ہیبتِ خلفِ شیر ذوالجلال
کانپی زمیں کھڑے ہوئے روئیں تنوں کے بال
منہ زرد ہو کے رہ گیا ہر نوجوان کا
دشتِ نبرد کھیت بنا زعفران کا
Toggle stanza 61تھا شش جہت میں غل کہ یہ ہے روزِ انقلاب
تھا شش جہت میں غل کہ یہ ہے روزِ انقلاب
الٹے گا اس زمیں کا ورق ابنِ بوتراب
اس شیر پر نہ ہوگی کوئی فوج فتح یاب
بس اب بنائے عالمِ امکاں ہوئی خراب
حملہ غضب ہے بازوئے شاہِ حجاز کا
لنگر نہ ٹوٹ جائے زمیں کے جہاز کا
Toggle stanza 62ڈر ہے ہوا تھی ایک طرف گرد اک طرف
ڈر ہے ہوا تھی ایک طرف گرد اک طرف
بھرتے تھے خیبری بھی دمِ سرد اک طرف
سمٹے ہوئے تھے کوفے کے نامرد اک طرف
تھے رو سیاہ شام کے سب زرد اکطرف
بھاگے تھے نیزہ باز لڑائی کو چھوڑ کے
ضیغم نکل گئے تھے ترائی کو چھوڑ کے
Toggle stanza 63تھی ابتری سپاہِ ضلالت شعار میں
تھی ابتری سپاہِ ضلالت شعار میں
اس صف میں تھی وہ صف یہ قطار اس قطار میں
سو بار جو لڑے تھے اکیلے ہزار میں
وہ جائے امن ڈھونڈھتے تھے کارزار میں
چہرے تھے زرد خوف سے حیدر کے لال کے
نامرد منہ چھپائے تھے گھونگھٹ میں ڈھال کے
Toggle stanza 64سرکردہائے فوجِ مخالف تھے بے حواس
سرکردہائے فوجِ مخالف تھے بے حواس
کچھ شمر کے قریب تھے کچھ تھے عمر کے پاس
سب کا یہ قول تھا کہ ہوئی زندگی سے یاس
ضرب علی ہے ضربِ علمدارِ حق شناس
طاقت سے ہیں بھرے ہوئے بازو دلیر کے
خیبر کشا کا زور ہے پنجے میں شیر کے
Toggle stanza 65اس فوج میں ہے گو یہ تزلزل یہ انتشار
اس فوج میں ہے گو یہ تزلزل یہ انتشار
ہتھیار ادھر لگاتے ہیں عباسِ نامدار
مضطر ہیں بیبیاں شہِ والا ہیں بے قرار
بھائی کے منہ کو دیکھ کے روتے ہیں زار زار
بیٹا کھڑا ہے چاک گریباں کیے ہوئے
روتی ہے سوکھی مشک سکینہ لیے ہوئے
Toggle stanza 66منہ دیکھتی ہے باپ کا جب وہ بہ چشم تر
منہ دیکھتی ہے باپ کا جب وہ بہ چشم تر
کہتے ہیں یہ اشارے سے سلطانِ بحر و بر
لٹتا ہے باپ تم کو سکینہ نہیں خبر
جانے نہ دو چچا کو ہمیں چاہتی ہو گر
آنسو بہا بہا کے نہ پانی کا نام لو
دامن قبا کا ننھے سے ہاتھوں سے تھام لو
Toggle stanza 67بھائی کے اضطراب سے زینب کا ہے یہ حال
بھائی کے اضطراب سے زینب کا ہے یہ حال
ڈھلکی ہوئی ہے سر سے ردا اور کھلے ہیں بال
عباس سے یہ کہتی ہے رو کر بہ صد ملال
چھوڑو نہ شہ کو اے اسدِ کبریا کے لال
کیا کہتے ہو سکینہ سے منہ موڑ موڑ کے
بھیا کدھر چلے مرے بھائی کو چھوڑ کے
Toggle stanza 68دیکھو تو حال سبط رسول فلک اساس
دیکھو تو حال سبط رسول فلک اساس
بیٹے کا غم بھتیجے کا ماتم ہجوم یاس
ہے کثرتِ سپاہ میں تنہا وہ حق شناس
قربان جاؤں تم تو رہو بے وطن کے پاس
عاشق ہو دلبرِ اسد ذوالجلال کے
بازو قوی تمہیں سے ہیں زہرا کے لال کے
Toggle stanza 69عباس کہتے ہیں کہ نہ جاؤں تو کیا کروں
عباس کہتے ہیں کہ نہ جاؤں تو کیا کروں
کیوں کر نہ حق امامِ زماں کا ادا کروں
الٹوں صفیں ہزاروں سے تنہا وغا کروں
یہ سر ہے الیے کہ قدم پر فدا کروں
پہونچا ہے فیض سیدِ خوشخو کے ہاتھ سے
دنیا میں کچھ تو کام ہو بازو کے ہاتھ سے
Toggle stanza 70رخصت طلب ہے شاہ سے اکبر سا لالہ فام
رخصت طلب ہے شاہ سے اکبر سا لالہ فام
شہزادہ مرے جائے سلامت رہے غلام
للہ روکیے نہ اب اے خواہر امام
وہ امر کیجیے کہ بڑھے جس سے میرا نام
بیکس ہوں ساتھ ماں نہیں سر پر پدر نہیں
میں آپ کا غلام تو ہوں گو پسر نہیں
Toggle stanza 71باتیں یہ سن کے روتی ہیں زینب جھکا کے سر
باتیں یہ سن کے روتی ہیں زینب جھکا کے سر
تھرا رہی ہے زوجہ عباس نام ور
چہرہ تو فق ہے گود میں ہے چاند سا پسر
مانع ہے شرم روتی ہے منہ پھیر پھیر کر
موقع نہ روکنے کا ہے نے بول سکتی ہے
حضرت کے منہ کو نرگسی آنکھوں سے تکتی ہے
Toggle stanza 72کہتی ہے رو کے بانوئے عالم سے بار بار
کہتی ہے رو کے بانوئے عالم سے بار بار
ہم کو تباہ کرتے ہیں عباسِ نام دار
ہے لونڈیوں کے باب میں بی بی کو اختیار
کچھ آپ بولتی نہیں اس وقت میں نثار
کہیے جو روکنے کی کوئی ان کے راہ ہو
اب عنقریب ہے کہ مرا گھر تباہ ہو
Toggle stanza 73اکبر کا واسطہ کوئی تدبیر کیجیے
اکبر کا واسطہ کوئی تدبیر کیجیے
امداد بہرِ حضرتِ شبیر کیجیے
کچھ دل کو ہو قرار وہ تقریر کیجیے
پٹکا وہ باندھتے ہیں نہ تاخیر کیجیے
اک دل ہے میرا اور کئی غم کے تیر ہیں
بی بی میں کیا کروں مرے بچے صغیر ہیں
Toggle stanza 74عباس دیکھتے ہیں جو زوجہ کا اضطرار
عباس دیکھتے ہیں جو زوجہ کا اضطرار
ہوتا ہے تیر غم جگر ناتواں کے پار
روتے ہیں خود مگر یہ اشار ہے بار بار
شوہر کے غم میں یوں کوئی ہوتا ہے بیقرار
آؤ ادب سے دلبرِ زہرا کے سامنے
روتی ہیں لونڈیاں کہیں آقا کے سامنے
Toggle stanza 75کھولا ہے گوندھے بالوں کو صاحب یہ کیا یہ کیا
کھولا ہے گوندھے بالوں کو صاحب یہ کیا یہ کیا
پیٹو نہ سر کو روتا ہے فرزند مہ لقا
خیرالنسا کے لال پہ ہوتے ہیں ہم فدا
شادی کا ہے مقام کہ ماتم کی ہے یہ جا
ایذا میں صبر صاحب ہمت کا کام ہے
میری بھی آبرو ہے تمہارا بھی نام ہے
Toggle stanza 76لو پونچھ ڈالو آنسوؤں کو بہرِ ذو الجلال
لو پونچھ ڈالو آنسوؤں کو بہرِ ذو الجلال
دیکھو زیادہ رونے سے ہوگا ہمیں ملال
میری مفارقت کا نہ کیجو کبھی خیال
قائم تمہارے سر پہ رہے فاطمہ کا لال
غم چاہیے نہ آہ و بکا چاہیے تمہیں
شہ کی سلامتی کی دعا چاہیے تمہیں
Toggle stanza 77صدقے ہیں ابنِ فاطمہ پر مجھ سے سو غلام
صدقے ہیں ابنِ فاطمہ پر مجھ سے سو غلام
دیکھو نہ روتے دیکھ لیں تم کو کہیں امام
کیا اشکِ خوں بہا کے بگاڑوگی میرا کام
ہم ہاتھ جوڑتے ہیں یہ ہے صبر کا مقام
پوچھیں حضور گر کہ تمہیں کیا قبول ہے
صاحب یہ کہیو تم کہ رنڈاپا قبول ہے
Toggle stanza 78دیکھو کہ گھر میں اور بھی رانڈیں ہیں تین چار
دیکھو کہ گھر میں اور بھی رانڈیں ہیں تین چار
آدابِ شہ سے چپ ہیں نہیں کوئی بیقرار
رہ جائے بات کرتے ہیں وہ امرا ہوشیار
دنیا ہے بے ثبات زمانہ ہے بے مدار
کیا کیا نہ تفرقے ہوئے ایک ایک آن میں
صاحب سدا کوئی بھی جیا ہے جہان میں
Toggle stanza 79قاسم کو دیکھو جانبِ کبرا کرو نگاہ
قاسم کو دیکھو جانبِ کبرا کرو نگاہ
گذری جو شب تو صبح کو گھر ہو گیا تباہ
دشمن کو بھی دکھائے نہ اللہ ایسا بیاہ
کیا صابرہ ہے دخترِ شبیر واہ واہ
سہتے ہیں یوں جہاں میں جفا رانڈ ہونے کی
آواز بھی بھلا کوئی سنتا ہے رونے کی
Toggle stanza 80آفت میں صبر کرتی ہیں اس طرح بیبیاں
آفت میں صبر کرتی ہیں اس طرح بیبیاں
ہوتا ہے صابروں کا مصیبت میں امتحاں
جل جائے دل مگر نہ اٹھے آہ کا دھواں
اف کیجیے نہ منہ سے جو پہونچے لبوں پہ جاں
چرچا رہے کہ وقت پہ کیا کام کر گئی
چھوٹی بہو علی کا بڑا نام کر گئی
Toggle stanza 81شوہر نے یہ کلام کیے جب بہ چشم تر
شوہر نے یہ کلام کیے جب بہ چشم تر
چپ ہو گئی وہ صاحب ہمت جھکا کے سر
ہتھیار سج کے حضرتِ عباس نامور
آئے قریب لختِ دل سیدالبشر
صدمے سے رنگِ سبطِ نبی زرد ہو گیا
کانپے یہ دست و پاک بدن سرد ہو گیا
Toggle stanza 82جوں جوں قریب آتے تھے عباس نامور
جوں جوں قریب آتے تھے عباس نامور
بے تاب تھے حسین سنبھالے ہوئے جگر
کہتے تھے اضطراب میں جھک کر ادھر ادھر
جینے نہ دے گا آہ ہمیں صدمۂ کمر
ہے زیست تلخ فاطمہ کے نورِعین کو
زینب کہاں ہو؟ آ کے سنبھالو حسین کو
Toggle stanza 83سب گھر کی بیٹیوں سے کہو میرے پاس آئیں
سب گھر کی بیٹیوں سے کہو میرے پاس آئیں
بانو کہاں ہیں زوجۂ عباس کو بلائیں
گودی میں تشنہ کام سکینہ کو جلد لائیں
کوچ اب جہاں سے ہے ہمیں سب آکے دیکھ جائیں
یہ نوجواں سنبھالے گا جس دم مروں گا میں
عباس سے ہر اک کی سفارش کروں گا میں
Toggle stanza 84یہ سن کے ساری بیبیاں آئیں یہ حالِ زار
یہ سن کے ساری بیبیاں آئیں یہ حالِ زار
بولے قدم پہ جھک کے یہ عباسِ نامدار
اے آفتابِ عالمیاں نورِ کردگار
ہل من مبارز ًکا ادھر غل ہے بار بار
ہیں ذرہ پروری کے چلن آفتاب میں
آقا یہ دیر کس لیے خادم کے باب میں
Toggle stanza 85لڑکوں نے معرکہ میں کیے اپنے اپنے نام
لڑکوں نے معرکہ میں کیے اپنے اپنے نام
کیا میں غلامِ خاص نہیں یا شہِ انام
ایسا دن اور بھی کوئی ہوئے گا یا امام
کس کام کا جو آج نہ کام آئے گا غلام
مشکل ہے ایسے وقت میں رکنا دلیر کا
آخر پسر ہوں شیر الٰہی سے شیر کا
Toggle stanza 86ہوتا جو سب سے پہلے فدا خادمِ جناب
ہوتا جو سب سے پہلے فدا خادمِ جناب
خوش ہوتی خاکسار سے روحِ ابوتراب
اب ہوں ہر اک کے آگے خجالت سے آب آب
زہرا سے بھی حجاب ہے شبر سے بھی حجاب
اب بھی نہ تیغ و تیر اگر تن پہ کھاؤں گا
مولا بتائیے کسے پھر منہ دکھاؤں گا
Toggle stanza 87ساتھ آپ کے سہوں گا نہ گر قتل کی جفا
ساتھ آپ کے سہوں گا نہ گر قتل کی جفا
مجھ سے رسولِ پاک خوشی ہوں گے یا خفا؟
بیزار کیا نہ ہوگا دلِ شاہ لافتا
پھر فاطمہ کہیں گی مجھے صاحبِ وفا؟
مرنے کا حظ نہ جینے کا مطلق مزا رہا
انساں کی آبرو نہ رہی جب تو کیا رہا
Toggle stanza 88پالا ہے مجھ کو یا شہ دل گیر آپ نے
پالا ہے مجھ کو یا شہ دل گیر آپ نے
کی ہے ہمیشہ پیار سے تقریر آپ نے
بندھوائی ہے کمر سے یہ شمشیر آپ نے
بخشی ہے سب میں عزت و توقیر آپ نے
وقتِ مدد ہے آج بھی امداد کیجیے
بندہ سمجھ کے اب مجھے آزاد کیجیے
Toggle stanza 89گردن ہلا کے شہ نے کہا آہ کیا کروں؟
گردن ہلا کے شہ نے کہا آہ کیا کروں؟
مشکل ہے سخت اے مرے واللہ کیا کروں؟
جینے نہ دے گا یہ غمِ جاں کاہ کیا کروں؟
چھٹتا ہے اب برادرِ ذی جاہ کیا کروں؟
دم بھر کی زندگی مجھے دشوار ہو گئی
سب تو خفا تھے موت بھی بیزار ہو گئی
Toggle stanza 90غازی نے رکھ دیا قدم شاہِ دیں پہ سر
غازی نے رکھ دیا قدم شاہِ دیں پہ سر
بولے گلے لگا کے شہنشاہ بحرو بر
اے تن کی جان اے سبب قوتِ جگر
یوں ہے خوشی تو خیر جہاں سے کرو سفر
بھائی نہ ہو تو بھائی کی مٹی خراب ہے
اچھا تمہارا کوچ مرا پاتر اب ہے
Toggle stanza 91روتا ہوا جھکا پے تسلیم وہ جری
روتا ہوا جھکا پے تسلیم وہ جری
سب روئے مشک دوشِ مبارک پہ جب دھری
اک آہِ سرد زوجۂ عباس نے بھری
صدمے سے رنگ زرد تھا اور تن میں تھرتھری
سر سے ردا بھی دوش تلک آ کے گر پڑی
بانو کے پاس خاک پہ غش کھا کے گر پڑی
Toggle stanza 92نکلا وہ شیر خیمے سے باہر علم لیے
نکلا وہ شیر خیمے سے باہر علم لیے
مجرے کو آئی فتح سپاہ حشم لیے
جرأت نے بڑھ کے بوسۂ تیغِ دو دم لیے
نصرت نے چومے ہاتھ ظفر نے قدم لیے
خورشید کا جلال نگاہوں سے گر گیا
اقبال سر کے گرد ہما بن کے پھر گیا
Toggle stanza 93آیا سجا ہوا وہ سمند براق سیر
آیا سجا ہوا وہ سمند براق سیر
تھا جو فلک پہ اڑنے کو تیار مثلِ طیر
ہوتا تھا اس کے ڈر سے غزالوں کا حال غیر
رن میں سپاہِ شر اسے روکے تو یہ بخیر
صر صر قدم کی گرد کو پاتی نہیں کبھی
ڈھونڈھے بشر پری نظر آتی نہیں کبھی
Toggle stanza 94وہ زیب و زین زین کی وہ ساز وہ پھبن
وہ زیب و زین زین کی وہ ساز وہ پھبن
زیور سے جیسے ہوتی ہے آراستہ دلہن
چشمِ سیاہ دیدۂ آہو پہ طعنہ زن
سرعت یہ تھی کہ بھولتے تھے چوکڑی ہرن
جادو تھا معجزہ تھا پری تھی طلسم تھا
پاکھر نہ تھی زرہ میں تہمتن کا جسم تھا
Toggle stanza 95رکھا قدم رکاب میں حیدر کے لال نے
رکھا قدم رکاب میں حیدر کے لال نے
نعلین پاک فخر سے چوما ہلال نے
بخشی جو صدرِ زیں کو ضیا خوش جمال نے
دم کو چنور کیا فرس بے مثال نے
کس ناز سے وہ رشکِ غزالِ ختن چلا
طاؤس تھا کہ سیر کو سوئے چمن چلا
Toggle stanza 96خوشبو سے ارضِ پاک ریاضِ جناں بنی
خوشبو سے ارضِ پاک ریاضِ جناں بنی
گرد اٹھ کے غازۂ رخ لیلیٰ نشاں بنی
جلوے سے راہِ دشتِ بلا کہکشاں بنی
ذرے بنے نجوم زمیں آسماں بنی
سم بدر تھے تو نعل بھی چاروں ہلال تھے
نقشِ سم فرس سے ہزاروں ہلال تھے
Toggle stanza 97وہ دبدبہ وہ سطوتِ شاہانہ وہ شباب
وہ دبدبہ وہ سطوتِ شاہانہ وہ شباب
تھرا رہا تھا جس کی جلالت سے آفتاب
وہ رعبِ حق کہ شیر کا زہرہ ہو آب آب
صولت میں فرد دفترِ جرأت میں انتخاب
تیور میں سارے طور خدا کے ولی کے ہیں
شوکت پکارتی ہے کہ بیٹے علی کے ہیں
Toggle stanza 98پہونچے جو دشتِ کیں میں اڑاتے ہوئے فرس
پہونچے جو دشتِ کیں میں اڑاتے ہوئے فرس
گھوڑے کو ہاتھ اٹھا کے یہ آواز دی کہ بس
دیکھیں صفیں جمی جو چپ و راس و پیش و پس
نعرہ کیا کہ نہر پہ جانے کی ہے ہوس
روکے گا جو وہ موت کے پنجے میں آئے گا
ہٹ جاؤ سب کہ شیر ترائی میں جائے گا
Toggle stanza 99روکے ہمیں نکل کے جو طاقت کسی میں ہو
روکے ہمیں نکل کے جو طاقت کسی میں ہو
لے تیغ میان سے جو شجاعت کسی میں ہو
گرمائے رخش کو جو حرارت کسی میں ہو
آئے جو حرب ضرب کی قدرت کسی میں ہو
دو ہاتھ میں علی کے پسر آر پار ہیں
دریا نہیں کہ رک گیا ہم ذوالفقار ہیں
Toggle stanza 100تم کیا پہاڑ بیچ میں گر ہو تو ٹال دیں
تم کیا پہاڑ بیچ میں گر ہو تو ٹال دیں
شیروں کو ہم ترائی سے باہر نکال دیں
مہلت نہ ایک کو دم جنگ و جدال دیں
پانی تو کیا ہے آگ میں گھوڑے کو ڈال دیں
منہ دیکھتے ہیں جو ہیں نگہبان گھاٹ کے
لے جائیں گھر پہ تیغ سے دریا کو کاٹ کے
Toggle stanza 101سرکش ہیں سب ہماری زبردستوں سے زیر
سرکش ہیں سب ہماری زبردستوں سے زیر
دادا شجاع باپ اولوالعزم ہم دلیر
جب رن پڑا ہے کردیے ہیں زخمیوں کے ڈھیر
لائے ہیں جا کے آگ سے پانی خدا کے شیر
عفریت بھاگتے ہیں وہ چوٹیں ہماری ہیں
بیر العلم میں کود کے تلواریں ماری ہیں
Toggle stanza 102جرأت جلو میں رہتی ہے نصرت رکاب میں
جرأت جلو میں رہتی ہے نصرت رکاب میں
لیتے ہیں گھاٹ پیر کے تیغوں کی آب میں
لکھے ہوئے ہیں شیروں کے حملے کتاب میں
فصلیں ہیں اپنے زور کی خیبر کے باب میں
ناصر ہیں بادشاہ فلک بارگاہ کے
دفتر الٹ دیے ہیں عرب کی سپاہ کے
Toggle stanza 103بے مشک کے بھرے ہمیں آتا ہے چین کب
بے مشک کے بھرے ہمیں آتا ہے چین کب
گرمی میں پیاس سے کئی بچے ہیں جاں بلب
اصغر کی گودیوں میں تڑپتے کٹی ہے شب
کیا وقت ہے حسین کے بچوں پہ ہے غضب
لالے پڑے ہوئے ہیں سکینہ کی جان کے
کانٹے مجھے دکھائے تھے سوکھی زبان کے
Toggle stanza 104عبرت کی یہ جگہ ہے کہ ہم اور سوالِ آب
عبرت کی یہ جگہ ہے کہ ہم اور سوالِ آب
سقہ بنے ہیں دیکھ کے بچوں کا اضطراب
اس مشک نے کیا ہمیں عقبیٰ میں کامیاب
اللہ ری آبرو کہ بہشتی ملا خطاب
شہ سے نشانِ فوجِ پیمبر بھی مل گیا
طوبیٰ کے ساتھ چشمۂ کوثر بھی مل گیا
Toggle stanza 105یہ ذکر تھا کہ فوج کی جانب سے تیر آئے
یہ ذکر تھا کہ فوج کی جانب سے تیر آئے
نیزے اٹھا کے شیر کے منہ پر شریر آئے
یہ بھی جھپٹ کے مثلِ شہِ قلعہ گیر آئے
گیتی ہلی غضب میں جناب امیر آئے
گھوڑا اڑا پروں کو سواروں کے توڑ کے
لپکی صفوں پہ سیف بھی کاٹھی کو چھوڑ کے
Toggle stanza 106آمد تھی تیغ کی کہ اجل کا پیام تھا
آمد تھی تیغ کی کہ اجل کا پیام تھا
یہ صف اخیر تھی وہ رسالہ تمام تھا
بجلی سا ہر جگہ فرس تیز گام تھا
ششدر تھی موت چار طرف قتلِ عام تھا
اس غول پر کبھی تھی کبھی اس قطار پر
پڑتا تھا ایک تیغ کا سایہ ہزار پر
Toggle stanza 107وہ تیغ کی چمک وہ تڑپ راہوار کی
وہ تیغ کی چمک وہ تڑپ راہوار کی
رفرف کی اک شبیہ تو اک ذوالفقار کی
شوکت سوار میں شہ دلدل سوار کی
حملوں میں شان سب اسدِ کردگار کی
چتون وہی غضب وہی بے باکیاں وہی
پھرتی وہی جھپٹ وہی چالاکیاں وہی
Toggle stanza 108توڑا یہ مورچہ یہ صف الٹی ادھر پھرے
توڑا یہ مورچہ یہ صف الٹی ادھر پھرے
تلوار خوں میں آپ پسینے میں تر پھرے
یوں خاک پہ گرا کے لعینوں کے سر پھرے
جیسے شکار کھیلے ہوئے شیرِ نر پھرے
تھی قہر کی نگاہ غضب کا جلال تھا
آنکھیں بھی سرخ سرخ تھیں چہرہ بھی لال تھا
Toggle stanza 109منہ پھر گئے سپاہ کے جس سمت رخ کیا
منہ پھر گئے سپاہ کے جس سمت رخ کیا
یاں سے وہاں گئے اسے مارا اسے لیا
باقی رہے ہزار میں سو دس میں ایک جیا
اللہ رے دم لہو پہ لہو تیغ نے پیا
اس پر بھی تشنگی کو نہ تسکیں ذری ہوئی
گویا تھی آگ پیٹ میں اس کے بھری ہوئی
Toggle stanza 110بے شک تھا ان کا ہاتھ امیرِ عرب کا ہاتھ
بے شک تھا ان کا ہاتھ امیرِ عرب کا ہاتھ
پہونچا وغا میں سو طرف اک تشنہ لب کا ہاتھ
آئی اجل اٹھا جو کسی بے ادب کا ہاتھ
شیرِ خدا کے شیر نے مارا غضب کا ہاتھ
بازو پہ آئی تیغ دو دم شانہ کاٹ کے
پہنچے کو بھی قلم کیا دستانہ کاٹ کے
Toggle stanza 111چلتا تھا مثلِ برق یمین و یسار ہاتھ
چلتا تھا مثلِ برق یمین و یسار ہاتھ
ڈر ڈر کے جوڑتے تھے ضلالت شعار ہاتھ
ان کی نہ ایک ضرب نہ ان کے ہزار ہاتھ
کافی تھے سب کو تیغِ دو دستی کے چار ہاتھ
آواز شش جہت میں بگیروبزن کی تھی
اللہ کا کرم تھا مدد پنجتن کی تھی
Toggle stanza 112نعرہ جدا صدائے بگیرِ و برہ جدا
نعرہ جدا صدائے بگیرِ و برہ جدا
گوشہ کماں سے دور تھے گوشوں سے زہ جدا
بکتر جدا زمین پہ ٹکڑے زرہ جدا
نیزوں کو دیکھیے تو گرہ سے گرہ جدا
اللہ رے فرق گردن وسر بھی بہم نہ تھے
کشتوں کا ذکر کیا ہے کہ تیغوں میں دم نہ تھے
Toggle stanza 113جس کی طرف نظر دمِ جنگ و جدل پھری
جس کی طرف نظر دمِ جنگ و جدل پھری
کچھ ہٹ کے تیغ سے اسی جانب اجل پھری
رہوار یوں پھرا کہ اشارے میں کل پھری
تلوار بھی گلوں کی طرف بر محل پھری
ایسے جری سے کس کو مجالِ مصاف تھی
یوں پھر کے صف کی صف کو جو دیکھا تو صاف تھی
Toggle stanza 114چل پھر کے کاٹتی تھی وہ تلواریں ہاتھ پاؤں
چل پھر کے کاٹتی تھی وہ تلواریں ہاتھ پاؤں
ڈر سے بڑھا نہ سکتے تھے خونخوار ہاتھ پاؤں
سر بچ گیا تو ہو گئے بیکار ہاتھ پاؤں
چمکی گری تو آٹھ ہوئے چار ہاتھ پاؤں
روحیں پکاریں تیغ پھر آئی نکل چلو
بولی اجل اب اٹھ کے تو پنجوں کے بل چلو
Toggle stanza 115تیر ادھر قلم تو ادھر برچھیاں قلم
تیر ادھر قلم تو ادھر برچھیاں قلم
ترکش دو نیم ٹکڑے کمانیں نشاں قلم
ہر ہاتھ میں قلم کی طرح استخواں قلم
منہ تیغ کا خراب سناں کی زباں قلم
جب سن سے آئی سر پہ کسی بد خصال کے
گویا سموم چل گئی پھولوں پہ ڈھال کے
Toggle stanza 116کی جس نے سر کشی وہی فتنہ فروہوا
کی جس نے سر کشی وہی فتنہ فروہوا
ظالم ہزار میں تھا جو یکتاوہ دو ہوا
افشاں لہو سے شیر کا دستِ نکو ہوا
ٹھنڈا وہی تھا جنگ پر سرگرم جو ہوا
تھا خاتمہ سپاہ جہنم مقام کا
شعلے بجھائے دیتا تھا پانی حسام کا
Toggle stanza 117وہ تیغ کھول دیتی تھی لوہے کا بھی حصار
وہ تیغ کھول دیتی تھی لوہے کا بھی حصار
تھا اس کے ہاتھ سے دلِ چار آئینہ فگار
آری تھیں منہ پہ تیغوں کے ایسے پڑے تھے وار
خود اپنے سر پٹکتے تھے گر گر کے بار بار
پانی وہ زہر تھا کہ پیا اور فنا ہوا
ہے آج تک زرہ کا کلیجہ چھنا ہوا
Toggle stanza 118جاتی تھی ہر سرے کی طرف سن کے بار بار
جاتی تھی ہر سرے کی طرف سن کے بار بار
چڑھ کے سوار گرتے تھے توسن کے بار بار
اٹھتی تھی الاماں کی صدا رن سے بار بار
ہر سر کا بار اترتا تھا گردن سے بار بار
غارت ہوئے تباہ ہوئے بے تزک ہوئے
ضربِ گراں جو اٹھ نہ سکی کیا سبک ہوئے
Toggle stanza 119ثابت رہی نہ ڈھال نہ مغفر نہ سر بچا
ثابت رہی نہ ڈھال نہ مغفر نہ سر بچا
سینے میں دل کو کاٹ گئی گر جگر بچا
دو ٹکڑے ہو گیا وہ ادھر جو ادھر بچا
بے زخم کھائے ایک نہ بیداد گر بچا
تلوار سے کوئی کوئی ڈر سے ہلاک تھا
سالم تھا جس کا جسم جگر اس کا چاک تھا
Toggle stanza 120سر سے کمر میں تھی تو کمر سے تہ فرس
سر سے کمر میں تھی تو کمر سے تہ فرس
آفت کا منہ تھا قہر کا دم خم ستم کا کس
کشتے تڑپ رہے تھے چپ و راس پیش و پس
دو تھے اگر تو چار ہوئے پانچ تھے تو دس
غل تھا وہی لڑے جسے سر تن پہ بار ہو
آفت بپا ہے کون اجل سے دو چار ہو
Toggle stanza 121غل تھا شرارتوں سے اس آتش زبان کی
غل تھا شرارتوں سے اس آتش زبان کی
پریاں پکارتی تھیں کہ ہو خیر جان کی
دنیا میں شعلہ بار ہے آگ اس جہان کی
بدلی ہوئی ہے آج ہوا آسمان کی
بجلی خجل ہے ناز یہ اس شعر خو کے ہیں
بوچھاڑ ہے سروں کی در یڑے لہو کے ہیں
Toggle stanza 122جب بڑھ کے سن سے صورتِ تیغ علی چلی
جب بڑھ کے سن سے صورتِ تیغ علی چلی
ثابت ہوا کہ ضربتِ دستِ ولی چلی
دل پر خفی چلی تو گلوں پر جلی چلی
تن سے نکل کے روح پکاری چلی چلی
دی تیغ نے صدا کہ ارادہ کدھر کا ہے
چلائی موت چل یہی رستا سقر کا ہے
Toggle stanza 123خشکی میں تھی جو آپ تو آتش تری میں تھی
خشکی میں تھی جو آپ تو آتش تری میں تھی
ہم نام ذوالفقار علی صفدری میں تھی
تلوار تھی کہ برق لباس پری میں تھی
بے باک اس لیے تھی کہ دستِ جری میں تھی
خوں بھی اسے حلال دیت بھی معاف تھی
کاٹا تھا سو گلوں کو مگر پاک صاف تھی
Toggle stanza 124سارے رسالہ دار تباہی میں پڑ گئے
سارے رسالہ دار تباہی میں پڑ گئے
اب منہ کسے دکھائیں کہ چہرے بگڑ گئے
نامی جو تھے جواں قدم ان کے اکھڑ گئے
بھاگے جو سب نشاں بھی خجالت سے گڑ گئے
علموں کے پاس ڈھیرے پھریروں کے رن میں تھے
ریتی پہ بیرقیں تھیں کہ مردے کفن میں تھے
Toggle stanza 125پہنے ہوئے تھے جسم میں زرہیں جو چست چست
پہنے ہوئے تھے جسم میں زرہیں جو چست چست
چوٹیں کڑی پڑیں تو ہوئے وہ بھی سخت سست
خوفِ اجل سے بھول گئے وعدۂ نخست
ٹوٹی صفوں میں ہاتھ کسی کے نہ تھے درست
اک شور تھا کہ جان گئی اس لڑائی میں
گھوڑے بھگاؤ آگ لگی ہے ترائی میں
Toggle stanza 126گھیرے تھے ایک جان کو دو لاکھ اہلِ شہر
گھیرے تھے ایک جان کو دو لاکھ اہلِ شہر
ٹھہرے کہاں قرار کہاں لیں تھمیں کدھر
چھاتی کے پاس برچھیاں تیغیں قریبِ سر
پہلو میں اس طرف تو سنائیں ادھر تبر
ملتی نہ تھی اماں سپہ تیرہ بخت سے
گوشوں سے تیر چلتے تھے پتھر درخت سے
Toggle stanza 127جب مشک کی طرف کوئی آتا تھا سن سے تیر
جب مشک کی طرف کوئی آتا تھا سن سے تیر
کہتے تھے یا حفیظ کبھی گاہ یا قدیر
چلا رہا تھا شمر جفا پیشہ و شریر
جانے نہ پائے لختِ دلِ شاہ قلعہ گیر
رخ اس جری کا خیمہ کی جانب سے موڑ دو
ہاں برچھیوں سے شیر کے سینہ کو توڑ دو
Toggle stanza 128سن کر زباں درازیِ شہرِ ستم شعار
سن کر زباں درازیِ شہرِ ستم شعار
عباس مثلِ شیر جھپٹتے تھے بار بار
تلواریں سیکڑوں تھیں ہزاروں تھے نیزہ دار
توڑی اگر یہ صف تو جمی دوسری قطار
تنہا سنبھالے مشک و علم یا وغا کرے
بلوہ ہو ساری فوج کا جس پر وہ کیا کرے
Toggle stanza 129مشہور ہے کہ ایک پہ بھاری ہیں دو بشر
مشہور ہے کہ ایک پہ بھاری ہیں دو بشر
در پے تھے اک جواں کے لیے لاکھ اہلِ شر
کھائے ادھر سے زخم جو کی اس طرف نظر
کس کس کا وار رد کریں دیکھیں کدھر کدھر
جب دم لیا تو سینہ پہ سو تیر چل گئے
پہلو کو توڑ توڑ کے نیزے نکل گئے
Toggle stanza 130سینہ سپر تھے مشک پہ روکے ہوئے تھے ڈھال
سینہ سپر تھے مشک پہ روکے ہوئے تھے ڈھال
لڑنے میں بھی حسین کے بچوں کا تھا خیال
کہتا تھا ڈگمگا کے فرس پر وہ خوش خصال
فرزند کو سنبھالیے یا شیرِ ذوالجلال
جا پہنچوں مشک لے کے جو تھوڑی سی راہ ہو
ایسا نہ ہو کہ پیاسوں کی کشتی تباہ ہو
Toggle stanza 131یہ کہتے تھے کہ ٹوٹ پڑا لشکرِ کثیر
یہ کہتے تھے کہ ٹوٹ پڑا لشکرِ کثیر
بس چور ہو گیا پسرِ شاہ قلعہ گیر
آکر لگا میان دو ابرو جو ایک تیر
تیور اگیا علی ٔولی کا مہ منیر
چھوٹی جو باگ پاؤں فرس کے بھی رک گئے
پھیلا کے ہاتھ مشک سکینہ پہ جھک گئے
Toggle stanza 132اب یاں تو خاتمہ ہے سنو اس طرف کا حال
اب یاں تو خاتمہ ہے سنو اس طرف کا حال
ڈیوڑھی پہ ننگے سر ہے رسولِ خدا کا لال
غم سے کمر جھکی ہوئی رخ زرد جی نڈھال
یہ کرب ہے کہ ہوتا ہے جو وقتِ انتقال
گر گر اٹھے تڑپ کے ادھر سے ادھر گئے
جب آہ کی تو سب نے یہ جانا کہ مر گئے
Toggle stanza 133فریاد کر کے دل کبھی تھاما جگر کبھی
فریاد کر کے دل کبھی تھاما جگر کبھی
پکڑی طناب خیمے کی گہ اور کمر کبھی
گھبرا کے پیارے بھائی کو پوچھی خبر کبھی
روئے پسر کی دوش پہ رکھ کھر کے سر کبھی
کی آہ سامنے کبھی زہرا کی جائی کے
رو کر کبھی لپٹ گئے بیٹے سے بھائی کے
Toggle stanza 134فرماتے تھے کراہ کے اکبر سے بار بار
فرماتے تھے کراہ کے اکبر سے بار بار
شانے دباؤ اے علی اکبر پدر نثار
کیسا یہ درد ہے کہ جگر کو نہیں قرار
بازو کا زور لے گئے عباسِ نامدار
واحسرتا کہ بے کس و بے یار ہو گئے
سر پیٹیں کس سے ہاتھ تو بیکار ہو گئے
Toggle stanza 135چلاتے تھے کہ جانِ برادر بس اب پھر آؤ
چلاتے تھے کہ جانِ برادر بس اب پھر آؤ
پہونچا ہے دم لبوں پہ ہمیں آ کے دیکھ جاؤ
بھیا خدا کے واسطے اب برچھیاں نہ کھاؤ
عباس ہم اخیر ہیں تشریف جلد لاؤ
پیاری تمہاری ننھے سے ہاتھوں کو ملتی ہے
اب تم کو ڈھونڈھنے کو سکینہ نکلتی ہے
Toggle stanza 136حضرت تو پیٹتے ہیں یہ کہہ کر بہ صد ملال
حضرت تو پیٹتے ہیں یہ کہہ کر بہ صد ملال
خیمے میں غش ہے زوجہ عباسِ خوش خصال
ڈیوڑھی پہ اہلِ بیت ہیں سب کھولے سر کے بال
پردے سے منہ نکالے ہیں اطفالِ خورد سال
لب ان کے اودے اودے ہیں منہ گورے گورے ہیں
آنکھوں میں اشک ہاتھوں میں خالی کٹورے ہیں
Toggle stanza 137کہتے ہیں سب لبوں پہ زبانوں کو پھیر کر
کہتے ہیں سب لبوں پہ زبانوں کو پھیر کر
اب پانی لے کے آتے ہیں عباس نام ور
حضرت سے پوچھتی ہے سکینہ بہ چشمِ تر
میرے چچا کب آئیں گے یا شاہِ بحر و بر
کیا میں سفر کروں گی جہاں سے تب آئیں گے
بہلاتے ہیں حسین کہ بی بی اب آئیں گے
Toggle stanza 138گھیرے ہیں لاکھ ان کو ستمگار ہائے ہائے
گھیرے ہیں لاکھ ان کو ستمگار ہائے ہائے
مانگو دعا کہ بھائی کو میرے خدا بچائے
وہ کہتی ہے میں پانی سے گذری نہ مشک آئے
ہے ہے بس اب چچا کو مرے کوئی پھیر لائے
رکھے خدا جہاں میں علی کی نشانی کو
میں کیا کروں گی آگ لگے ایسے پانی کو
Toggle stanza 139یہ ذکر تھا کہ فتح کے باجے بجے ادھر
یہ ذکر تھا کہ فتح کے باجے بجے ادھر
تڑپے زمیں پہ گر کے شہنشاہِ بحر و بر
چلائے بڑھکے فوج سے دو چار اہلِ شر
حضرت کہاں ہیں مر گئے عباسِ نامور
کیا کیا چلی ہیں تیغوں پہ تیغیں لڑائی میں
وہ زخم کھائے شیر پڑا ہے ترائی میں
Toggle stanza 140افشاں ہیں سر کے خون کی چھینٹوں سے سب نشاں
افشاں ہیں سر کے خون کی چھینٹوں سے سب نشاں
عباس کانپ جاتے تھے جھکتا تھا جب نشاں
نام آوروں نے آج مٹایا عجب نشاں
کیوں اے حسین کون اٹھائے گا اب نشاں
لاش ان کی پائمال ہوئی زخم پھٹ گئے
جن میں علی کا زور تھا وہ ہاتھ کٹ گئے
Toggle stanza 141آئی صدا یہ نہر کی جانب سے ایک بار
آئی صدا یہ نہر کی جانب سے ایک بار
آقا تمام ہوتا ہے یہ عبدِ جاں نثار
تن سے نکل کے آنکھوں میں اٹکی ہے جانِ زار
اب ہے فقط حضور کے آنے کا انتظار
بابا کے ساتھ خلد سے تشریف لائی ہیں
حضرت کی والدہ مرے لینے کو آئی ہیں
Toggle stanza 142شہ دوڑ کر پکارے کہ آتا ہوں بھائی جان
شہ دوڑ کر پکارے کہ آتا ہوں بھائی جان
گھر لٹ گیا ہے خاک اڑاتا ہوں بھائی جان
طاقت بدن میں اب نہیں پاتا ہوں بھائی جان
اک اک قدم پہ ٹھوکریں کھاتا ہوں بھائی جان
دستِ شکستہ بیٹے کی گردن میں ڈالے ہیں
بھیا ہمیں تو اکبر مہ رو سنبھالے ہیں
Toggle stanza 143دیکھا جو در سے بنتِ علی نے یہ شہ کا حال
دیکھا جو در سے بنتِ علی نے یہ شہ کا حال
ڈیوڑھی سے نکلی چند قدم کھولے سر کے بال
چلاتی کون قتل ہوا اے علی کے لال
مڑ کر کہا حسین نے عباس خوش خصال
دریا پہ فوجِ شام نے مارا دلیر کو
زینب اجل نے چھین لیا میرے شیر کو
Toggle stanza 144خورشید مشرقین زمانے سے اٹھ گیا
خورشید مشرقین زمانے سے اٹھ گیا
سید کا نور عین زمانے سے اٹھ گیا
وہ عاشقِ حسین زمانے سے اٹھ گیا
زینب ہمارا چین زمانے سے اٹھ گیا
آتا نہیں قرار دلِ بے قرار کو
دریا پہ روئے جاتے ہیں خدمت گزار کو
Toggle stanza 145اکبر کو ہاتھ اٹھا کے پکاری وہ سوگوار
اکبر کو ہاتھ اٹھا کے پکاری وہ سوگوار
ہے ہے حسین ہو گئے بے یار و غم گسار
ماتم جوان بھائی کا ہے تم پہ میں نثار
اکبر خدا کے واسطے بابا سے ہوشیار
گرنے لگیں تو حیدرِ صفدر کا نام لو
بیٹا پدر کے ہاتھ کو مضبوط تھام لو
Toggle stanza 146اکبر پدر کو تھامے ہوئے نہر پر جو لائے
اکبر پدر کو تھامے ہوئے نہر پر جو لائے
غلطاں لہو میں بازوئے سرور کے ہاتھ پائے
چلائے شاہ لاش کدھر ہے کوئی بتائے
فرق آگیا ہماری بصارت میں ہائے ہائے
رو لیں گلے لگا کے تنِ پاش پاش کو
اکبر ہمیں دکھا دو برادر کی لاش کو
Toggle stanza 147اکبر نے شہ کے ہاتھ پکڑ کر بہ صد بکا
اکبر نے شہ کے ہاتھ پکڑ کر بہ صد بکا
رکھے چچا کے سینے پہ اور رو کے یہ کہا
لیجے یہی ہے لاشِ علمدار باوفا
چلائے جھک کے لاش پہ سلطانِ کربلا
ٹوٹی ہوئی کمر ہے سنبھالو حسین کو
بھیا ذرا گلے سے لگالو حسین کو
Toggle stanza 148عباس ہاتھ کٹ گئے شانوں سے ہے غضب
عباس ہاتھ کٹ گئے شانوں سے ہے غضب
ریتی پہ دو طرف یہ تمہارا لہو ہے سب
لوٹا ہمیں رسول کی امت نے بے سبب
بھیا ہماری جان نکلتی ہے تن سے اب
مر جائیں گے جلا دو ہمیں منہ سے بول کر
دو باتیں کر لو بھائی سے آنکھوں کو کھول کر
Toggle stanza 149کیوں خاک پر دھرے ہو یہ رخسار خوں میں تر
کیوں خاک پر دھرے ہو یہ رخسار خوں میں تر
آؤ ہم اپنے زانو پہ رکھیں تمہارا سر
لیتے ہو کیوں کراہ کے کروٹ ادھر ادھر
ثابت ہوا کہ جلد ہے دنیا سے اب سفر
ہے ہے دلیلِ مرگ ہے لکنت زبان کی
ہچکی نہیں یہ جسم سے رخصت ہے جان کی
Toggle stanza 150غش میں سنی جو گریۂ شبیر کی صدا
غش میں سنی جو گریۂ شبیر کی صدا
چونکے تڑپ کے حضرتِ عباس باوفا
آہستگی پہ عرض کہ اے سبطِ مصطفا
اس پیار کے نثار اس الطاف کے فدا
زیبا ہے نکلے جان اگر پیشوائی کو
گویا رسول آئے ہیں مشکل کشائی کو
Toggle stanza 151یہ کہہ کے روئے شہ کی طرف کی نظر بہ غور
یہ کہہ کے روئے شہ کی طرف کی نظر بہ غور
جھک کر پکارے شاہ کہ بھیا کہو کچھ اور
تڑپا قدم پہ شہ کے وہ مقتولِ ظلم و جور
لیں ہچکیاں بگڑنے لگے تیوروں کے طور
پتھرا کے چشمِ اشک فشاں بند ہو گی
تھرائے دونوں ہونٹ زباں بند ہو گئیں
Toggle stanza 152اکبر نے عرض کی کہ چچا جان مر گئے
اکبر نے عرض کی کہ چچا جان مر گئے
جھک کر پکارے شاہ کے بھیا کدھر گئے
منہ تو اٹھاؤ خاک سے رخسار بھر گئے
واحسرتا حسین کو بے آس کر گئے
اب کون دے گا دکھ میں نبی کے پسر کا ساتھ
دم بھر میں تم نے چھوڑ دیا عمر بھر کا ساتھ
Toggle stanza 153ہاں روؤ مومنو یہ بکا کا مقام ہے
ہاں روؤ مومنو یہ بکا کا مقام ہے
تم میں شریک روحِ رسولِ انام ہے
اب رخصتِ حسین علیہ السلام ہے
تاریخ آٹھویں ہے محرم تمام ہے
موت آئی تو شریکِ عزا کون ہوئے گا؟
جو سال بھر جیے گا وہ پھر شہ کو روئے گا
Toggle stanza 154آگے تمہارے مرتے جو عباس با وفا
آگے تمہارے مرتے جو عباس با وفا
پرسا نہ دیتے سبط رسولِ خدا کو کیا
تم سب کو دیکھتے ہیں شہنشاہِ کربلا
زہرا بھی ننگے سر ہیں قیامت کرو بپا
سمجھو شریکِ بزمِ شہِ مشرقین کو
دے لو جوان بھائی کا پرسا حسین کو
Toggle stanza 155پیٹو سروں کو ہوتا ہے اب مرثیہ تمام
پیٹو سروں کو ہوتا ہے اب مرثیہ تمام
لپٹو ضریح پاک سے کہہ کہہ کے یا امام
رخصت طلب ہے باپ سے اکبر سا لالہ فام
خاموش ہیں حسین نہیں کرتے کچھ کلام
مقتول ظلم و جور ہے اب رن میں فاطمہ
ہوتا ہے پنجتن میں کوئی دم میں خاتمہ
Toggle stanza 156بس اے انیسؔ روک لے اب خامہ کی عناں
بس اے انیسؔ روک لے اب خامہ کی عناں
یہ غم ہے جاں گزا نہ کبھی ہوئے گا بیاں
آنکھوں سے سامعین کے بھی اشک ہیں رواں
خالق سے عرض کر کہ اے خلاقِ انس و جاں
آنکھوں سے مس کروں میں مزار بتول کو
دکھلا دے جلد مرقد سبطِ رسول کو
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

