شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح
Toggle stanza 1شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح
11
شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح
جہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح
22
کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر کی طرح
ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح
33
سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخ
کہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح
44
تمام خلق ہے خواہان آبرو اے رب
چھپا مجھے صدف قبر میں گہر کی طرح
55
تجھی کو دیکھوں گا جب تک ہیں برقرار آنکھیں
مری نظر نہ پھرے گی تری نظر کی طرح
66
ہماری قبر پہ کیا احتیاج عنبر و عود
سلگ رہا ہے ہر اک استخواں اگر کی طرح
77
نحیف و زار ہیں کیا زور باغباں سے چلے
جہاں بٹھا دیا بس رہ گئے شجر کی طرح
88
تمہارے حلقہ بہ گوشوں میں ایک ہم بھی ہیں
پڑا رہے یہ سخن کان میں گہر کی طرح
99
انیسؔ یوں ہوا حال جوانی و پیری
بڑھے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

