مرا راز دل آشکارا نہیں
Toggle stanza 1مرا راز دل آشکارا نہیں
11
مرا راز دل آشکارا نہیں
وہ دریا ہوں جس کا کنارا نہیں
22
وہ گل ہوں جدا سب سے ہے جس کا رنگ
وہ بو ہوں کہ جو آشکارا نہیں
33
وہ پانی ہوں شیریں نہیں جس میں شور
وہ آتش ہوں جس میں شرارہ نہیں
44
بہت زال دنیا نے دیں بازیاں
میں وہ نوجواں ہوں جو ہارا نہیں
55
جہنم سے ہم بے قراروں کو کیا
جو آتش پہ ٹھہرے وہ پارا نہیں
66
فقیروں کی مجلس ہے سب سے جدا
امیروں کا یاں تک گزارا نہیں
77
سکندر کی خاطر بھی ہے سد باب
جو دارا بھی ہو تو مدارا نہیں
88
کسی نے تری طرح سے اے انیسؔ
عروس سخن کو سنوارا نہیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

