زنہار ہمت اپنے سے ہرگز نہ ہاریے
Toggle stanza 1زنہار ہمت اپنے سے ہرگز نہ ہاریے
زنہار ہمت اپنے سے ہرگز نہ ہاریے
شیشے میں اس پری کو نہ جب تک اتارئیے
اوضاع ڈھونڈ ڈھاڈ کے یاروں سے سیکھئے
ہوتے نہیں جہان میں ہم سے نیارئیے
اے اشک گرم کر مرے دل کا علاج کچھ
مشہور ہے کہ چوٹ کو پانی سے دہارئے
جو اہل فقر و شاہ کمہارے کے ہیں مرید
پالے ہیں ان سبھوں نے کبوتر کمہارئے
گلنے کی دال یاں نہیں بس خشکہ کھائیے
اے شیخ صاحب آپ نہ شیخی بگھاریے
کل جن کو کھیرے ککڑی کیا کوس کاٹ کر
آج اس پری نے ان کو دیئے نرم آریے
ہو آب میں کدر تو ٹھہر جائیے ٹک ایک
دل میں کدورت آوے تو کیوں کر نتھاریے
ہے کون سی یہ وضع بھلا سوچیے تو آپ
باتیں ادھر کو کیجے ادھر آنکھ ماریے
پوچھے حقیقت ایک نے جو امن راہ کی
تو بولے سر جھکا کے بچا وہ مدارئیے
خطرہ نہ آپ کیجے بس اب خیر شوق سے
سونا اچھالتے ہوئے گھر کو سدھارئے
ہے جو بلند حوصلہ ان کی یہ چال ہے
کیا پھر انہیں بگاڑئے جن کو سنوارئیے
پنڈت جی ہم میں ان میں بھلا کیسے ہونے کے
پوتھی کو اپنے کھولیے کچھ تو بچارئے
انشاؔ کوئی جواب بھی دینا نہیں ہمیں
بانگ جرس کی طرح کہاں تک پکاریے
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

