زلف کو تھا خیال بوسے کا

Toggle stanza 1
زلف کو تھا خیال بوسے کا
1

زلف کو تھا خیال بوسے کا

خط نے لکھا سوال بوسے کا

2

دوہرے پتوں کے زیر سایہ ہوا

سب قلم بند حال بوسے کا

3

چشمک خال رخ نے صاف کہا

ہے تبسم مآل بوسے کا

4

سبزۂ نو دمیدہ نے مارا

گرد رخسار جال بوسے کا

5

رہ گیا تیرے مکھڑے پر باقی

اب مکاں خال خال بوسے کا

6

ہو غضب اپنے بال نوچ لیے

ہے یہ سارا وبال بوسے کا

7

تیرے غصے سے اب کوئی انشاؔ

چھوڑتا ہے خیال بوسے کا

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…