زلف کو تھا خیال بوسے کا
شاعر: انشاء اللہ خان انشاؔ
Toggle stanza 1زلف کو تھا خیال بوسے کا
11
زلف کو تھا خیال بوسے کا
خط نے لکھا سوال بوسے کا
22
دوہرے پتوں کے زیر سایہ ہوا
سب قلم بند حال بوسے کا
33
چشمک خال رخ نے صاف کہا
ہے تبسم مآل بوسے کا
44
سبزۂ نو دمیدہ نے مارا
گرد رخسار جال بوسے کا
55
رہ گیا تیرے مکھڑے پر باقی
اب مکاں خال خال بوسے کا
66
ہو غضب اپنے بال نوچ لیے
ہے یہ سارا وبال بوسے کا
77
تیرے غصے سے اب کوئی انشاؔ
چھوڑتا ہے خیال بوسے کا
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

