دس عقل دس مقولے دس مدرکات تیسوں
شاعر: انشاء اللہ خان انشاؔ
Toggle stanza 1دس عقل دس مقولے دس مدرکات تیسوں
11
دس عقل دس مقولے دس مدرکات تیسوں
تیرے ہی ذکر میں ہیں اے پاک ذات تیسوں
22
نو آسماں خور و مہ ساتوں طبق زمیں کے
روح و حواس خمسہ اور شش جہات تیسوں
33
بارہ بروج چودہ معصوم چار عنصر
ظاہر کریں ہیں تیری لاکھوں صفات تیسوں
44
سی پارہائے دل کو رکھیو محافظت سے
اے میری جاں ہیں تیری حفظ حیات تیسوں
55
ماہ گزشتہ کا حال انشاؔ کہوں سو کیوں کر
مر مر بسر کئے ہیں دن اور رات تیسوں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

