دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا
شاعر: حسرتؔ موہانی
Toggle stanza 1دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا
11
دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا
کہ یہ شیوہ نہیں اہل رضا کا
22
طلب میری بہت کچھ ہے، مگر کیا
کرم تیرا ہے اک دریا عطا کا
33
کہاں تک ناز اٹھائے آخر اے حسن
ہوس تیرے مزاج خود ستا کا
44
نہیں معلوم کیا اے شاہ خوباں
تجھے کچھ حال اپنے مبتلا کا
55
بجائے اسم اعظم آپ کا نام
وظیفہ ہے مرا صبح و مسا کا
66
غضب کا سامنا ہے عاشقوں کو
دیار حق میں افواج بلا کا
77
نثار ان پر ہوئے اچھے رہے ہم
تقاضا تھا یہی خوئے وفا کا
88
گنہ گارو چلو عفو الٰہی
بہت مشتاق ہے عرض خطا کا
99
تری محفل میں اہل دل کو جلوہ
نظر آ جائے گا شان خدا کا
1010
اٹھایا ہے مزا دل نے بہت کچھ
محبت کے غم راحت فزا کا
1111
جفا کو بھی وفا سمجھو کہ حسرتؔ
تمہیں حق ان سے کیا چون و چرا کا
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

