دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا
Toggle stanza 1دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا
11
دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا
ساغر کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیا
22
مانوس ہو چلا تھا تسلی سے حال دل
پھر تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا
33
گستاخ دستیوں کا نہ تھا مجھ میں حوصلہ
لیکن ہجوم شوق نے مجبور کر دیا
44
کچھ ایسی ہو گئی ہے تیرے غم میں مبتلا
گویا کسی نے جان کو مسحور کر دیا
55
بیتابیوں سے چھپ نہ سکا ماجرائے دل
آخر حضور یار بھی مذکور کر دیا
66
اہل نظر کو بھی نظر آیا نہ روئے یار
یاں تک حجاب نور نے مستور کر دیا
77
حسرتؔ بہت ہے مرتبۂ عاشقی بلند
تجھ کو تو مفت لوگوں نے مشہور کر دیا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

