حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو

Toggle stanza 1
حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو
1

حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو

جب ہو ایسا تو علاج دل شیدا کیا ہو

2

کثرت حسن کی یہ شان نہ دیکھی نہ سنی

برق لرزاں ہے کوئی گرم تماشا کیا ہو

3

بے مثالی کے ہیں یہ رنگ جو باوصف حجاب

بے نقابی پر ترا جلوۂ یکتا کیا ہو

4

دیکھیں ہم بھی جو ترے حسن دل آرا کی بہار

اس میں نقصان ترا اے گل رعنا کیا ہو

5

ہم غرض مند کہاں مرتبۂ عشق کہاں

ہم کو سمجھیں وہ ہوس کار تو بے جا کیا ہو

6

دل فریبی ہے تری باعث صد جوش و خروش

حال یہ ہو تو دل زار شکیبا کیا ہو

7

رات دن رہنے لگی اس ستم ایجاد کی یاد

حسرتؔ اب دیکھیے انجام ہمارا کیا ہو

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…