حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو
Toggle stanza 1حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو
11
حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو
جب ہو ایسا تو علاج دل شیدا کیا ہو
22
کثرت حسن کی یہ شان نہ دیکھی نہ سنی
برق لرزاں ہے کوئی گرم تماشا کیا ہو
33
بے مثالی کے ہیں یہ رنگ جو باوصف حجاب
بے نقابی پر ترا جلوۂ یکتا کیا ہو
44
دیکھیں ہم بھی جو ترے حسن دل آرا کی بہار
اس میں نقصان ترا اے گل رعنا کیا ہو
55
ہم غرض مند کہاں مرتبۂ عشق کہاں
ہم کو سمجھیں وہ ہوس کار تو بے جا کیا ہو
66
دل فریبی ہے تری باعث صد جوش و خروش
حال یہ ہو تو دل زار شکیبا کیا ہو
77
رات دن رہنے لگی اس ستم ایجاد کی یاد
حسرتؔ اب دیکھیے انجام ہمارا کیا ہو
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

