خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
شاعر: حسرتؔ موہانی
Toggle stanza 1خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
11
خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں
22
عقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہوا
شوق کی بے قراریاں نہ گئیں
33
دن کی صحرا نوردیاں نہ چھٹیں
شب کی اختر شماریاں نہ گئیں
44
ہوش یاں سد راہ علم رہا
عقل کی ہرزہکاریاں نہ گئیں
55
تھے جو ہمرنگ ناز ان کے ستم
دل کی امیدواریاں نہ گئیں
66
حسن جب تک رہا نظارہ فروش
صبر کی شرمساریاں نہ گئیں
77
طرز مومنؔ میں مرحبا حسرتؔ
تیری رنگیں نگاریاں نہ گئیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

