اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ
شاعر: مرزا غالبؔ
Toggle stanza 1اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ
11
اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ
ہے اصل خرد سے شرمسار اندیشہ
22
یک قطرۂ خون و دعوت صد نشتر
یک وہم و عبادت ہزار اندیشہ
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

