اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ

شاعر: مرزا غالبؔ

قافیہ: ار

ردیف: اندیشہ

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ
1

اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ

ہے اصل خرد سے شرمسار اندیشہ

2

یک قطرۂ خون و دعوت صد نشتر

یک وہم و عبادت ہزار اندیشہ

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…