ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو

Toggle stanza 1
ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو
1

ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو

امتحاں عشق و ہوس کا یہ نیا رکھا ہے

2

ہر گھڑی عاشق مضطر سے وہ ملتی ہے شبیہ

نقشہ بگڑی ہوئی صورت کا بنا رکھا ہے

3

شکوۂ ہجر سے اے داغؔ اثر کی امید

آپ نے نام شکایت کا دعا رکھا ہے

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…