ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو
Toggle stanza 1ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو
11
ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو
امتحاں عشق و ہوس کا یہ نیا رکھا ہے
22
ہر گھڑی عاشق مضطر سے وہ ملتی ہے شبیہ
نقشہ بگڑی ہوئی صورت کا بنا رکھا ہے
33
شکوۂ ہجر سے اے داغؔ اثر کی امید
آپ نے نام شکایت کا دعا رکھا ہے
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

