شہر آشوب
Toggle stanza 1فلک زمین و ملائک جناب تھی دہلی
فلک زمین و ملائک جناب تھی دہلی
بہشت و خلد میں بھی انتخاب تھی دہلی
جواب کاہے کو تھا لا جواب تھی دہلی
مگر خیال سے دیکھا تو خواب تھی دہلی
پڑی ہیں آنکھیں وہاں جو جگہ تھی نرگس کی
خبر نہیں کہ اسے کھا گئی نظر کس کی
Toggle stanza 2فلک نے قہر و غضب تاک تاک کر ڈالا
فلک نے قہر و غضب تاک تاک کر ڈالا
تمام پردۂ ناموس چاک کر ڈالا
یکایک ایک جہاں کو ہلاک کر ڈالا
غرض کہ لاکھ کا گھر اس نے خاک کر ڈالا
جلیں ہیں دھوپ میں شکلیں جو ماہتاب کی تھیں
کھنچی ہیں کانٹوں پہ جو پتیاں گلاب کی تھیں
Toggle stanza 3لہو کے چشمے ہیں چشم پر آب کی صورت
لہو کے چشمے ہیں چشم پر آب کی صورت
شکستہ کاسۂ سر ہیں حباب کی صورت
لئے ہیں گھر دل خانہ خراب کی صورت
کہاں یہ حشر میں توبہ عذاب کی صورت
زبان تیغ سے پرسش ہے دادخواہوں کی
رسن ہے طوق ہے گردن ہے بے گناہوں کی
Toggle stanza 4زمیں کے حال پر اب آسمان روتا ہے
زمیں کے حال پر اب آسمان روتا ہے
ہر اک فراق مکیں میں مکان روتا ہے
کہ طفل و عورت و پیر و جوان روتا ہے
غرض یہاں کے لئے اک جہان روتا ہے
جو کہیے جوشش طوفاں کہی نہیں جاتی
یہاں تو نوح کی کشتی بھی ڈوب ہی جاتی
Toggle stanza 5برنگ بوئے گل اہل چمن چمن سے چلے
برنگ بوئے گل اہل چمن چمن سے چلے
غریب چھوڑ کے اپنا وطن وطن سے چلے
نہ پوچھ زندوں کو بے چارے کس چلن سے چلے
قیامت آئی کہ مردے نکل کفن سے چلے
مقام امن جو ڈھونڈا تو راہ بھی نہ ملی
یہ قہر تھا کہ خدا کی پناہ بھی نہ ملی
Toggle stanza 6جگہ جگہ تھے زمیندار دار کی صورت
جگہ جگہ تھے زمیندار دار کی صورت
چڑھے ہی آتے تھے سر پر بخار کی صورت
بلا سے کم نہ تھی اک اک گنوار کی صورت
چھپی نہ ان سے پر اہل دیار کی صورت
کسی جگہ جو کوئی ہو کے بے قرار آیا
تو اہل قریہ یہ بولے کہ لو شکار آیا
Toggle stanza 7زبان بدلیں تو صورت بدل نہیں آتی
زبان بدلیں تو صورت بدل نہیں آتی
ملیں جو خاک بھی منہ پر تو مل نہیں آتی
کسی طرح کسی پہلو سے کل نہیں آتی
پکارتے ہیں اجل کو اجل نہیں آتی
جو سر کو پھوڑیں تو پتھر پرے سرکتے ہیں
جو لوٹیں کانٹوں پہ کانٹے الگ کھسکتے ہیں
Toggle stanza 8بنا ہے خال سیہ رنگ مہ جمالوں کا
بنا ہے خال سیہ رنگ مہ جمالوں کا
دوتا ہوا ہے قد راست نونہالوں کا
جو زور آہوں کا لب پر تو شور نالوں کا
عجیب حال دگرگوں ہے دلی والوں کا
کوئی مراد جو چاہی حصول بھی نہ ہوئی
دعائے مرگ جو مانگی قبول بھی نہ ہوئی
Toggle stanza 9پئے محاسبہ پرسش ہے نکتہ دانوں کی
پئے محاسبہ پرسش ہے نکتہ دانوں کی
تلاش بہر سیاست ہے خوش زبانوں کی
یہ نوکری ہے تو اب یہ ہے نوجوانوں کی
کہ حکم عام ہے بھرتی ہے قید خانوں کی
یہ اہل سیف و قلم کا ہو جب کہ حال تباہ
کمال کیوں نہ پھرے در بدر کمال تباہ
Toggle stanza 10غضب ہے بخت بد ایسے ہمارے ہو جائیں
غضب ہے بخت بد ایسے ہمارے ہو جائیں
کہ ہیں جو لعل و گہر سنگ پارے ہو جائیں
جو دانے چاہیں تو خرمن شرارے ہو جائیں
جو پانی مانگیں تو دریا کنارے ہو جائیں
پئیں جو آب بقا بھی تو زہر ہو جائے
جو چاہیں رحمت باری تو قہر ہو جائے
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

