پھر دیکھتے عیش آدمی کا

Toggle stanza 1
پھر دیکھتے عیش آدمی کا
1

پھر دیکھتے عیش آدمی کا

بنتا جو فلک مری خوشی کا

2

گلشن میں ترے لبوں نے گویا

رس چوس لیا کلی کلی کا

3

تیرا بھی تو حسن ہے دغاباز

ہوتا ہی نہیں کوئی کسی کا

4

اتنی ہی تو بس کسر ہے تم میں

کہنا نہیں مانتے کسی کا

5

ہم بزم میں ان کی چپکے بیٹھے

منہ دیکھتے ہیں ہر آدمی کا

6

تم کوچہ غیر میں نہ جانا

اس راہ میں ہے گزر کسی کا

7

کس کس نے لئے ہیں تیرے بوسے

ہے لعل نمک فشاں جو پھیکا

8

جو دم ہے وہ ہے بسا غنیمت

سارا سودا ہے جیتے جی کا

9

آغاز کو کون پوچھتا ہے

انجام اچھا ہو آدمی کا

10

روکیں انہیں کیا کہ ہے غنیمت

آنا جانا کبھی کبھی کا

11

کہتے ہیں اسے زبان اردو

جس میں نہ ہو رنگ فارسی کا

12

ایسے سے جو داغؔ نے نباہی

سچ ہے کہ یہ کام تھا اسی کا

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…