پھر دیکھتے عیش آدمی کا
Toggle stanza 1پھر دیکھتے عیش آدمی کا
11
پھر دیکھتے عیش آدمی کا
بنتا جو فلک مری خوشی کا
22
گلشن میں ترے لبوں نے گویا
رس چوس لیا کلی کلی کا
33
تیرا بھی تو حسن ہے دغاباز
ہوتا ہی نہیں کوئی کسی کا
44
اتنی ہی تو بس کسر ہے تم میں
کہنا نہیں مانتے کسی کا
55
ہم بزم میں ان کی چپکے بیٹھے
منہ دیکھتے ہیں ہر آدمی کا
66
تم کوچہ غیر میں نہ جانا
اس راہ میں ہے گزر کسی کا
77
کس کس نے لئے ہیں تیرے بوسے
ہے لعل نمک فشاں جو پھیکا
88
جو دم ہے وہ ہے بسا غنیمت
سارا سودا ہے جیتے جی کا
99
آغاز کو کون پوچھتا ہے
انجام اچھا ہو آدمی کا
1010
روکیں انہیں کیا کہ ہے غنیمت
آنا جانا کبھی کبھی کا
1111
کہتے ہیں اسے زبان اردو
جس میں نہ ہو رنگ فارسی کا
1212
ایسے سے جو داغؔ نے نباہی
سچ ہے کہ یہ کام تھا اسی کا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

