بات میری کبھی سنی ہی نہیں

Toggle stanza 1
بات میری کبھی سنی ہی نہیں
1

بات میری کبھی سنی ہی نہیں

جانتے وہ بری بھلی ہی نہیں

2

دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیں

رنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں

3

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد

ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

4

اڑ گئی یوں وفا زمانے سے

کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

5

جان کیا دوں کہ جانتا ہوں میں

تم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں

6

ہم تو دشمن کو دوست کر لیتے

پر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں

7

ہم تری آرزو پہ جیتے ہیں

یہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں

8

دل لگی دل لگی نہیں ناصح

تیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں

9

داغؔ کیوں تم کو بے وفا کہتا

وہ شکایت کا آدمی ہی نہیں

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…