بات میری کبھی سنی ہی نہیں
شاعر: نواب مرزا داغؔ دہلوی
Toggle stanza 1بات میری کبھی سنی ہی نہیں
11
بات میری کبھی سنی ہی نہیں
جانتے وہ بری بھلی ہی نہیں
22
دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیں
رنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں
33
لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد
ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں
44
اڑ گئی یوں وفا زمانے سے
کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں
55
جان کیا دوں کہ جانتا ہوں میں
تم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں
66
ہم تو دشمن کو دوست کر لیتے
پر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں
77
ہم تری آرزو پہ جیتے ہیں
یہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں
88
دل لگی دل لگی نہیں ناصح
تیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں
99
داغؔ کیوں تم کو بے وفا کہتا
وہ شکایت کا آدمی ہی نہیں
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

